مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
أبواب العيدين— عیدین سے متعلق ابواب
بَابٌ فِي صَلَاةِ اللَّيْلِ . باب: رات کی ( نفل ) نماز
وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " ثَلَاثَةٌ يُحِبُّهُمُ اللَّهُ وَيَضْحَكُ إِلَيْهِمْ وَيَسْتَبْشِرُ بِهِمُ : الَّذِي إِذَا انْكَشَفَتْ فِئَةٌ قَاتَلَ وَرَاءَهَا بِنَفْسِهِ لِلَّهِ تَعَالَى فَإِمَّا أَنْ يُقْتَلَ وَإِمَّا أَنْ يَنْصُرَهُ اللَّهُ وَيَكْفِيَهُ ، فَيَقُولُ : انْظُرُوا إِلَى عَبْدِي هَذَا كَيْفَ صَبَرَ لِي بِنَفْسِهِ ! ؟ وَالَّذِي لَهُ امْرَأَةٌ حَسَنَةٌ وَفِرَاشٌ لَيِّنٌ حَسَنٌ فَيَقُومُ مِنَ اللَّيْلِ يَذَرُ شَهْوَتَهُ وَيَذْكُرُنِي وَلَوْ شَاءَ رَقَدَ ، وَالَّذِي إِذَا كَانَ فِي سَفَرٍ وَكَانَ مَعَهُ رَكْبٌ فَسَهِرُوا ثُمَّ هَجَعُوا فَقَامَ مِنَ السَّحَرِ فِي ضَرَّاءَ سِرًّا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” تین لوگ ایسے ہیں ، جن سے اللہ تعالیٰ محبت رکھتا ہے ، انہیں دیکھ کے مسکرا دیتا ہے ، اور انہیں دیکھ کے خوش ہوتا ہے ، وہ شخص جو اللہ تعالیٰ کی خاطر اپنی ذات کے ساتھ جنگ میں حصہ لیتا ہے ، یا شہید ہو جاتا ہے ، یا پھر اللہ تعالیٰ اُس کی مدد کرتا ہے ، اور اس کی کفایت کر دیتا ہے ، تو اللہ تعالیٰ یہ فرماتا ہے : میرے اس بندے کا جائزہ لو ! اس نے میری خاطر کیسے اپنی ذات کے حوالے سے صبر سے کام لیا ہے ، اور وہ شخص جس کی خوبصورت بیوی ہو اور نرم اور عمدہ بچھونا ہو اور وہ رات کے وقت کھڑا ہو کر ( نوافل ادا کرے ) تو اللہ فرماتا ہے : اس نے اپنی خواہش کو ترک دیا ہے ، اور میرا ذکر کر رہا ہے ، اگر یہ چاہتا تو یہ سو جاتا اور وہ شخص جو سفر کر رہا ہو ، اس کے ساتھی اور بھی سوار ہوں ، وہ لوگ سو جائیں ، اور وہ شخص سحری کے وقت تنگی یا آسانی ہر حالت میں نوافل ادا کرتا رہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔