مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
أبواب العيدين— عیدین سے متعلق ابواب
بَابٌ فِي صَلَاةِ اللَّيْلِ . باب: رات کی ( نفل ) نماز
وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ صَلَّى مِنْكُمْ مِنَ اللَّيْلِ فَلْيَجْهَرْ بِقِرَاءَتِهِ فَإِنَّ الْمَلَائِكَةَ تُصَلِّي بِصَلَاتِهِ ، وَتَسْمَعُ لِقِرَاءَتِهِ ، وَإِنَّ مُؤْمِنِي الْجِنِّ الَّذِينَ يَكُونُونَ فِي الْهَوَاءِ وَجِيرَانَهُ مَعَهُ فِي مَسْكَنِهِ يُصَلُّونَ بِصَلَاتِهِ وَيَسْمَعُونَ قِرَاءَتَهُ ، وَأَنَّهُ يَطْرُدُ بِجَهْرِهِ بِقِرَاءَتِهِ عَنْ دَارِهِ وَعَنِ الدُّورِ الَّتِي حَوْلَهُ فُسَّاقَ الْجِنِّ وَمَرَدَةَ الشَّيَاطِينِ ، وَإِنَّ الْبَيْتَ الَّذِي يُقْرَأُ فِي الْقُرْآنُ عَلَيْهِ خَيْمَةٌ مِنْ نُورٍ يَهْتَدِي بِهَا أَهْلُ السَّمَاءِ كَمَا يُهْتَدَى بِالْكَوْكَبِ الدُّرِّيِّ فِي لُجَجِ الْبِحَارِ وَفِي الْأَرْضِ الْقَفْرِ ، فَإِذَا مَاتَ صَاحِبُ الْقُرْآنِ رُفِعَتْ تِلْكَ الْخَيْمَةُ فَتَنْظُرُ الْمَلَائِكَةُ مِنَ السَّمَاءِ فَلَا يَرَوْنَ ذَلِكَ النُّورَ فَتَلَقَّاهُ الْمَلَائِكَةُ مِنْ سَمَاءٍ إِلَى سَمَاءٍ فَتُصَلِّي الْمَلَائِكَةُ عَلَى رُوحِهِ فِي الْأَرْوَاحِ ثُمَّ تَسْتَقْبِلُ الْمَلَائِكَةَ الْحَافِظِينَ الَّذِينَ كَانُوا مَعَهُ ثُمَّ تَسْتَغْفِرُ لَهُ الْمَلَائِكَةُ إِلَى يَوْمِ يُبْعَثُ ، وَمَا مِنْ رَجُلٍ تَعَلَّمَ كِتَابَ اللَّهِ ثُمَّ صَلَّى سَاعَةً مِنْ لَيْلٍ إِلَّا أَوْصَتْ بِهِ تِلْكَ اللَّيْلَةُ الْمَاضِيَةُ الْمُسْتَأْنِفَةُ أَنْ يَنْتَبِهَ لِسَاعَتِهِ وَأَنْ تَكُونَ عَلَيْهِ خَفِيفَةً فَإِذَا مَاتَ وَكَانَ أَهْلُهُ فِي جِهَازِهِ جَاءَ الْقُرْآنُ فِي صُورَةٍ حَسَنَةٍ جَمِيلَةٍ فَوَقَفَ عِنْدَ رَأْسِهِ حَتَّى يُدْرَجَ فِي أَكْفَانِهِ فَيَكُونُ الْقُرْآنُ عَلَى صَدْرِهِ دُونَ الْكَفَنِ ، فَإِذَا وُضِعَ فِي قَبْرِهِ وَسُوِّيَ عَلَيْهِ وَتَفَرَّقَ عَنْهُ أَصْحَابُهُ أَتَاهُ مُنْكَرٌ وَنَكِيرٌ فَيُجْلِسَانِهِ فِي قَبْرِهِ فَيَجِيءُ الْقُرْآنُ حَتَّى يَكُونَ بَيْنَهُ وَبَيْنَهُمَا فَيَقُولَانِ لَهُ : إِلَيْكَ حَتَّى نَسْأَلَهُ فَيَقُولُ : لَا وَرَبِّ الْكَعْبَةِ إِنَّهُ لَصَاحِبِي وَخَلِيلِي وَلَسْتُ أَخْذُلُهُ عَلَى حَالٍ فَإِنْ كُنْتُمَا أُمِرْتُمَا بِشَيْءٍ فَامْضِيَا لِمَا أُمِرْتُمَا بِهِ وَدَعَا مَكَانِي فَإِنِّي لَسْتُ أُفَارِقُهُ حَتَّى أُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ ثُمَّ يَنْظُرُ الْقُرْآنُ إِلَى صَاحِبِهِ فَيَقُولُ : أَنَا الْقُرْآنُ الَّذِي كُنْتَ تَجْهَرُ بِي وَتُخْفِينِي وَتُحِبُّنِي فَأَنَا حَبِيبُكَ وَمَنْ أَحْبَبْتُهُ أَحَبَّهُ اللَّهُ لَيْسَ عَلَيْكَ بَعْدَ مَسْأَلَةِ مُنْكَرٍ وَنَكِيرٍ هَمٌّ وَلَا حَزَنٌ ، فَيَسْأَلُهُ مُنْكَرٌ وَنَكِيرٌ وَيَصْعَدَانِ وَيَبْقَى هُوَ وَالْقُرْآنُ فَيَقُولُ : لَأَفْرِشَنَّكَ أَلْفَ فِرَاشٍ لَيِّنًا وَلَأُدَثِّرَنَّكَ دِثَارًا حَسَنًا جَمِيلًا بِمَا أَسْهَرْتُ لَيْلَكَ وَأَنْصَبْتُ نَهَارَكَ ، قَالَ : فَيَصْعَدُ الْقُرْآنُ إِلَى السَّمَاءِ أَسْرَعَ مِنَ الطَّرْفِ فَيَسْأَلُ اللَّهَ ذَلِكَ لَهُ فَيُعْطِيَهُ فَيَنْزِلُ بِهِ أَلْفُ أَلْفٍ مِنْ مُقَرَّبِي السَّمَاءِ السَّادِسَةِ فَيَجِيءُ الْقُرْآنُ فَيُحَيِّيهِ فَيَقُولُ : هَلِ اسْتَوْحَشْتَ ؟ مَا زِدْتُ مُنْذُ فَارَقْتُكَ أَنْ كَلَّمْتُ اللَّهَ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - حَتَّى أُحْدِثَ لَكَ فِرَاشًا وَدِثَارًا وَمِفْتَاحًا وَقَدْ جِئْتُكَ بِهِ فَقُمْ حَتَّى تَفْرِشَكَ الْمَلَائِكَةُ ، قَالَ : فَتُنْهِضُهُ الْمَلَائِكَةُ إِنْهَاضًا لَطِيفًا ثُمَّ تَفْتَحُ لَهُ فِي قَبْرِهِ مَسِيرَةَ أَرْبَعِمِائَةِ عَامٍ ثُمَّ يُوضَعُ لَهُ فِرَاشٌ بِطَانَتُهُ مِنْ حَرِيرٍ أَخْضَرَ حَشْوُهُ الْمِسْكُ الْأَذْفَرُ ، وَتُوضَعُ لَهُ مَرَافِقُ عِنْدَ رِجْلَيْهِ وَرَأْسِهِ مِنَ السُّنْدُسِ الْأَخْضَرِ وَالْإِسْتَبْرَقِ وَيُسْرَجُ لَهُ سِرَاجَانِ مِنْ نُورِ الْجَنَّةِ عِنْدَ رَأْسِهِ وَرِجْلَيْهِ يُزْهِرَانِ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ ثُمَّ تُضْجِعُهُ الْمَلَائِكَةُ عَلَى شِقِّهِ الْأَيْمَنِ مُسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةِ ، ثُمَّ يُؤْتَى بِيَاسَمِينِ الْجَنَّةِ وَتَصْعَدُ عَنْهُ وَيَبْقَى هُوَ وَالْقُرْآنُ فَيَأْخُذُ الْقُرْآنُ الْيَاسَمِينَ فَيَضَعُهُ عَلَى أَنْفِهِ غَضًّا فَيَنْشُقُهُ حَتَّى يُبْعَثَ ، وَيَرْجِعُ الْقُرْآنُ إِلَى أَهْلِهِ فَيُخْبِرُهُمْ كُلَّ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ وَيَتَعَاهَدُهُ كَمَا يَتَعَاهَدُ الْوَالِدُ الشَّفِيقُ وَلَدَهُ بِالْخَيْرِ فَإِنْ تَعَلَّمَ أَحَدٌ مِنْ وَلَدِهِ الْقُرْآنَ بَشَّرَهُ بِذَلِكَ ، وَإِنْ كَانَ عَقِبُهُ عَقِبَ سُوءٍ دَعَا لَهُمْ بِالصَّلَاحِ وَالْإِقْبَالِ " أَوْ كَمَا ذَكَرَ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَقَالَ خَالِدٌ : ابْنُ مَعْدَانَ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ مُعَاذٍ ، وَمَعْنَاهُ أَنَّهُ يَجِيءُ ثَوَابُ الْقُرْآنِ كَمَا قَالَ : إِنَّ اللُّقْمَةَ تَجِيءُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِثْلَ أُحُدٍ وَإِنَّمَا يَجِيءُ ثَوَابُهَا قُلْتُ : وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَجِدْ مَنْ تَرْجَمَهُ . ¤سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” تم میں سے جو شخص رات کے وقت ( نفل ) نماز ادا کرتا ہے ، اسے بلند آواز میں قرأت کرنی چاہیے ، کیونکہ فرشتے اس کی نماز کی اقتداء میں نماز ادا کرتے ہیں اور اس کی قرأت کو سنتے ہیں ، جنات سے تعلق رکھنے والے مؤمنین ، جو ہوا میں رہتے ہیں ، اور اس کی رہائش گاہ میں اس کے ساتھ پڑوس میں رہتے ہیں ، وہ بھی اس کی اقتداء میں نماز ادا کرتے ہیں اور اس کی تلاوت کو سنتے ہیں اور ایسا شخص بلند آواز میں قرأت کر کے اپنے گھر سے اور اپنے آس پاس کے گھروں سے فاسق جنوں اور سرکش شیاطین کو دور کر دیتا ہے ، وہ گھر جس میں قرآن کی تلاوت کی جاتی ہے ، اس پر نور کا بنا ہوا خیمہ موجود ہوتا ہے ، جس کے ذریعے آسمان والے یوں رہنمائی حاصل کرتے ہیں ، جس طرح سمندر میں اور بے آب و گیاہ جگہ پر چمکدار ستارے کے ذریعے رہنمائی کی جاتی ہے ، جب قرآن کا عالم فوت ہو جاتا ہے ، تو وہ خیمہ اٹھا لیا جاتا ہے ، فرشتے آسمان سے دیکھتے ہیں انہیں وہ نور نظر نہیں آتا پھر فرشتے ایک آسمان سے دوسرے آسمان تک اس شخص ( کی روح ) سے ملاقات کرتے ہیں اور فرشتے دیگر تمام ارواح میں سے اس کی روح پر رحمت نازل کرتے ہیں ، پھر اس کے ساتھ رہنے والے محافظ فرشتے اس کے سامنے آتے ہیں اور پھر فرشتے اس دن تک اس کے لئے دعائے مغفرت کرتے رہتے ہیں ، جب تک اسے دوبارہ زندہ نہیں کیا جائے گا ، جو بھی شخص اللہ تعالیٰ کی کتاب کا علم حاصل کرتا ہے ، پھر رات کی کسی ایک گھڑی میں ( نفل ) نماز ادا کرتا ہے ، تو گزرنے والی رات آگے آنے والی رات کو اُس شخص کے حوالے سے تلقین کرتی ہے کہ اس مخصوص گھڑی میں اس شخص کو بیدار کر دے ، اور وہ رات اس کے لئے ہلکی رہے ۔ جب وہ شخص فوت ہو جاتا ہے ، اور اس کے اہل خانہ اس کی تجہیز و تکفین کی تیاری کر رہے ہوتے ہیں ، تو قرآن ایک خوبصورت شکل و صورت میں آتا ہے ، اس کے سرہانے کھڑا ہو جاتا ہے ، یہاں تکہ اس کے کفن کے اندر آ جاتا ہے ، اس کے سینے پر کفن سے پہلے قرآن ہوتا ہے ، جب اس شخص کو قبر میں رکھا جاتا ہے ، اور اس پر مٹی ڈال دی جاتی ہے ، اور اس کے ساتھی اسے چھوڑ کر چلے جاتے ہیں تو منکر اور نکیر اس کے پاس آتے ہیں وہ اس کی قبر میں اس شخص کو بٹھاتے ہیں ، یہاں تک کہ قرآن آ جاتا ہے ، اور اس شخص اور دونوں کے فرشتوں کے درمیان آ جاتا ہے ، وہ دونوں فرشتے قرآن سے کہتے ہیں : تم ہٹ جاؤ ! تاکہ ہم اس سے سوال کریں ، قرآن کہتا ہے : جی نہیں ! رب کعبہ کی قسم ! یہ میرا ساتھی اور میرا دوست ہے ، میں اسے کسی بھی حالت میں رسوائی کا شکار نہیں کروں گا ، اگر تم دونوں کو کسی چیز کا حکم دیا گیا ہے ، تو تمہیں جو حکم دیا گیا ہے ، تم اس پر عمل کرو مجھے اپنی جگہ پر رہنے دو ، میں اس شخص سے اس وقت تک جدا نہیں ہوں گا جب تک میں اسے جنت میں داخل نہیں کروا دیتا ، پھر قرآن اپنے ساتھی کی طرف دیکھتا ہے ، اور یہ کہتا ہے : میں وہ قرآن ہوں جسے تم بلند آواز میں پڑھا کرتے تھے ، اور پست آواز میں پڑھا کرتے تھے ، اور تم مجھ سے محبت رکھتے تھے ، تو میں تمہارا حبیب ہوں ، جس شخص سے میں محبت رکھتا ہوں ، اللہ تعالی بھی اس سے محبت رکھتا ہے منکر اور نکیر کے سوال کے بعد تم پر کوئی پریشانی اور غم نہیں ہو گا ، منکر اور نکیر اس شخص سے سوال کرنے کے بعد اوپر چلے جاتے ہیں اور پھر ( قبر میں ) وہ شخص اور قرآن باقی رہ جاتے ہیں ، قرآن کہتا ہے : میں تمہارے لئے نرم بچھونا بچھواؤں گا ، اور تمہارے لئے عمدہ لباس فراہم کروں گا ، کیونکہ تم رات کے وقت جاگتے رہتے تھے ، اور دن میں مشقت کا شکار رہتے تھے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں : پھر قرآن آسمان کی طرف اس سے زیادہ تیزی سے جاتا ہے جتنی دیر میں پلک جھپکتی ہے وہ اللہ تعالیٰ سے مانگتا ہے ، اللہ تعالی یہ چیزیں اسے عطا کرتا ہے ، پھر ایک ہزار ، ہزار ( یعنی دس لاکھ ) فرشتے جن کا تعلق چھٹے آسمان کے مقرب فرشتوں سے ہوتا ہے ، وہ اس کے ساتھ نازل ہوتے ہیں ، قرآن آتا ہے ، اس شخص کو سلام کرتا ہے ، اور دریافت کرتا ہے : کیا تمہیں وحشت محسوس ہوئی ؟ تم سے جدا ہونے کے بعد میں نے صرف اللہ تعالیٰ سے کلام کیا ، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے بچھونا ، اوڑھنے کی چیز اور کنجی عطا کر دی ، وہ میں تمہارے پاس لے آیا ہوں ، اب تم اُٹھو ! تاکہ فرشتے تمہارا بچھونا بچھا دیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں : فرشتے اسے نرمی سے اٹھاتے ہیں پھر اس شخص کی قبر کو چار سو سال کی مسافت جتنا کشادہ کر دیا جاتا ہے ، پھر اس شخص کے لئے بچھونا بچھایا جاتا ہے ، جو سبز ریشم کے استر والا ہوتا ہے ، اور اس کے اندر مشک اذفر بھری ہوئی ہوتی ہے ، اس کے پاؤں کے پاس اور سرہانے کے پاس سبز سندس اور استبرق کے تکیے رکھے جاتے ہیں ، اس کے لئے جنت کے نور سے روشن دو چراغ جلائے جاتے ہیں ، ایک اس کے سرہانے کے پاس ہوتا ہے ، اور ایک پائینتی کی طرف ہوتا ہے ، وہ ( چراغ ) قیامت کے دن تک روشنی کرتے رہیں گے ، پھر فرشتے اس شخص کو دائیں پہلو کے بل لٹا دیتے ہیں ، اس کا رخ قبلہ کی طرف ہوتا ہے ، پھر جنت کی یاسمین لائی جاتی ہے ، فرشتے اس شخص کو چھوڑ کر اوپر چلے جاتے ہیں ، اور وہ شخص اور قرآن باقی رہ جاتے ہیں ، قرآن یاسمین کو لے کر اس شخص کی ناک پر رکھتا ہے ، تو وہ شخص دوبارہ زندہ کیے جانے تک اسے سونگھتا رہے گا ، پھر قرآن اس کے اہل خانہ کی طرف جاتا ہے ، اور روزانہ انہیں خبر دیتا ہے وہ اس شخص کا یوں خیال رکھتا ہے ، جس طرح کوئی شفیق باپ ، اپنی اولاد کی بھلائی کے ہمراہ دیکھ بھال کرتا ہے ، اگر اس شخص کی اولاد میں سے کسی نے قرآن کا علم حاصل کیا ہو ، تو قرآن اس شخص کو اس حوالے سے مبارک باد دیتا ہے ، اور اگر اس کے پسماندگان میں کوئی خرابی آ گئی ہو ، تو قرآن اُن لوگوں کے لئے بہتری اور ٹھیک ہونے کی دعا کرتا ہے “ یا جس طرح بھی انہوں نے ذکر کیا ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، وہ بیان کرتے ہیں : خالد بن معدان نے سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے ، اور اس کا مطلب یہ ہے کہ قرآن کا ثواب آتا ہے ، جس طرح نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” ایک لقمہ قیامت کے دن اُحد پہاڑ کی مانند ہو کر آئے گا “ ۔ اس سے مراد یہ ہے کہ اُس کا ثواب آئے گا ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس کی سند میں ایسا راوی ہے کہ میں نے کسی کو اس کے حالات بیان کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ۔