حدیث نمبر: 3529
وَعَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ : جَاءَ جِبْرَائِيلُ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : يَا مُحَمَّدُ عِشْ مَا شِئْتَ فَإِنَّكَ مَيِّتٌ ، وَاعْمَلْ مَا شِئْتَ فَإِنَّكَ مَجْزِيٌّ بِهِ ، أَحْبِبْ مَنْ شِئْتَ فَإِنَّكَ مُفَارِقُهُ ، وَاعْلَمْ أَنَّ شَرَفَ الْمُؤْمِنِ قِيَامُ اللَّيْلِ وَعِزَّهُ اسْتِغْنَاؤُهُ عَنِ النَّاسِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ زَافِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ وَثَّقَهُ أَحْمَدُ وَابْنُ مَعِينٍ وَأَبُو دَاوُدَ وَتَكَلَّمَ فِيهِ ابْنُ عَدِيٍّ وَابْنُ حِبَّانَ بِمَا لَا يَضُرُّ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سیدنا جبرائیل علیہ السلام نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور بولے : اے سیدنا محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ! جب تک آپ چاہیں زندہ رہیں ، لیکن ( ایک دن ) آپ نے مر جانا ہے ، آپ جو چاہیں عمل کریں اس کی جزا ملے گی ، آپ جس چیز سے چاہیں محبت رکھیں ، لیکن آپ کو اس سے جدا ہونا ہو گا ، اور آپ یہ بات جان لیں ! کہ مؤمن کا شرف رات کے وقت نوافل ادا کرنے میں ہے ، اور اس کی عزت لوگوں سے بے نیازی اختیار کرنے میں ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی زافر بن سلیمان ہے ، جسے امام أحمد یحیی بن معین اور امام ابوداؤد نے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ۔ ابن عدی اور ابن حبان نے اس کے بارے میں ایسا کلام کیا ہے ، جو نقصان دہ نہیں ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3529
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن