حدیث نمبر: 3515
وَعَنْ مَالِكِ بْنِ قَيْسٍ قَالَ : قَدِمَ عُقْبَةُ بْنُ عَامِرٍ عَلَى مُعَاوِيَةَ وَهُوَ بِإِيلِيَاءَ فَلَمْ يَلْبَثْ أَنْ خَرَجَ فَطُلِبَ فَلَمْ يُوجَدْ - [ أَوْ ] قَالَ : فَطَلَبْنَاهُ فَلَمْ نَجِدْهُ - فَأَتَيْنَاهُ فَإِذَا هُوَ يُصَلِّي بِبِرَازٍ مِنَ الْأَرْضِ قَالَ : فَقَالَ : مَا جَاءَ بِكُمْ ؟ قَالُوا : جِئْنَا لِنُحْدِثَ بِكَ عَهْدًا أَوْ نَقْضِيَ مِنْ حَقِّكَ قَالَ : فَعِنْدِي جَائِزَتُكُمْ ، كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي سَفَرٍ فَكَانَ عَلَى كُلِّ رَجُلٍ مِنَّا رِعَايَةُ الْإِبِلِ يَوْمًا فَكَانَ يَوْمِي الَّذِي أَرْعَى فِيهِ قَالَ : فَرَوَّحْتُ الْإِبِلَ وَانْتَهَيْتُ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَقَدْ طَافَ بِهِ أَصْحَابُهُ وَهُوَ يُحَدِّثُ ، قَالَ : فَأَهْمَلْتُ الْإِبِلَ وَتَوَجَّهْتُ نَحْوَهُ فَانْتَهَيْتُ إِلَيْهِ وَهُوَ يَقُولُ : " مَنْ تَوَضَّأَ فَأَحْسَنَ الْوُضُوءَ ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ يُرِيدُ بِهِمَا وَجْهَ اللَّهِ غَفَرَ اللَّهُ لَهُ مَا كَانَ قَبْلَهَا " فَقُلْتُ : اللَّهُ أَكْبَرُ ، قَالَ فَضَرَبَ رَجُلٌ عَلَى كَتِفِي فَالْتَفَتُّ فَإِذَا أَبُو بَكْرٍ قَالَ : يَا ابْنَ عَامِرٍ مَا كَانَ قَبْلَهَا أَفْضَلُ ، قُلْتُ : مَا كَانَ قَبْلَهَا ؟ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ شَهِدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ يُصَدِّقُ قَلْبُهُ لِسَانَهُ دَخَلَ مِنْ أَيِّ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ شَاءَ " . ¤ قُلْتُ : لَهُ حَدِيثٌ فِي الصَّحِيحِ غَيْرُ هَذَا . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَمَالِكُ بْنُ قَيْسٍ لَمْ أَجِدْ مَنْ ذَكَرَهُ ، وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زِيَادِ بْنِ أَنْعَمٍ وَفِيهِ كَلَامٌ كَثِيرٌ وَقَدْ وَثَّقَهُ بَعْضُ النَّاسِ . ¤
محمد محی الدین

مالک بن قیس بیان کرتے ہیں : سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ ، سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس تشریف لائے ، جو ایلیاء میں موجود تھے ، تھوڑی دیر کے بعد وہ تشریف لے گئے ، انہیں تلاش کیا گیا ، تو وہ نہیں ملے ( راوی کو شک ہے ، شاید یہ الفاظ ہیں : ) ہم نے انہیں تلاش کیا ، تو ہم نے انہیں نہیں پایا ، پھر ہم ان کے پاس آئے وہ اس وقت ایک کھلی جگہ پر نماز ادا کر رہے تھے ، انہوں نے دریافت کیا : تم لوگ کیوں آئے ہو ؟ لوگوں نے بتایا : ہم اس لئے آئے ہیں تاکہ آپ سے دوبارہ ملیں اور آپ کا جو حق ہے اس کو ادا کریں ( یعنی آپ سے استفادہ کریں ) ، انہوں نے فرمایا : میرے پاس تمہاری ضرورت کی چیز ہے ، ایک مرتبہ ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر کر رہے تھے ، ہم میں سے ہر ایک شخص کے ذمہ اونٹ کی ایک دن کی دیکھ بھال لازم تھی ، جب میرا مخصوص دن آیا ، جس دن میں ، میں نے اونٹ کو چرانا تھا ، تو میں اونٹوں کو چرانے کے لئے لے گیا ، جب میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب آپ کے پاس آ جا رہے تھے ، اور آپ بات چیت کر رہے تھے ، میری توجہ اونٹوں سے ہٹ گئی اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف مبذول ہو گئی ، جب میں آپ کے پاس آیا تو آپ یہ ارشاد فرما رہے تھے : ” جو شخص وضو کرتے ہوئے اچھی طرح وضو کرے ، پھر دو رکعات نماز ادا کرے اور ان دونوں کے ذریعے وہ اللہ تعالیٰ کی رضا کا ارادہ کرے ، تو اللہ تعالیٰ اس کے پہلے کے گناہوں کی مغفرت کر دے گا “ ۔ میں نے اللہ اکبر کہا: ، تو کسی صاحب نے میرے کندھے پر ہاتھ مارا میں نے مڑ کر دیکھا تو وہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ تھے ، انہوں نے فرمایا : اے عامر کے صاحبزادے ! اس سے پہلے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو بات ارشاد فرمائی تھی وہ زیادہ فضیلت رکھتی ہے ، میں نے دریافت کیا : اس سے پہلے کیا بات تھی ؟ انہوں نے بتایا : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص اس بات کی گواہی دے کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، اور اس کا دل اس کی زبان کی تصدیق کرے ، وہ شخص جنت کے جس بھی دروازے میں سے چاہے گا ، اندر داخل ہو جائے گا“ ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ” صحیح “ میں اس صحابی کے حوالے سے ایک حدیث منقول ہے ، جو اس روایت کے علاوہ ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، مالک بن قیس نامی راوی کا ذکر کرتے ہوئے میں نے کسی کو نہیں پایا ہے ، اس روایت کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن زیاد بن انعم ہے اور اس کے بارے میں بہت زیادہ کلام کیا گیا ہے بعض حضرات نے اسے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3515
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف