حدیث نمبر: 3509
وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " أَنَا أَوَّلُ مَنْ يُؤْذَنُ لَهُ بِرَفْعِ رَأْسِهِ فَأَرْفَعُ رَأْسِي فَأَعْرِفُ أُمَّتِي عَنْ يَمِينِي وَعَنْ شِمَالِي " فَقِيلَ : كَيْفَ تَعْرِفُهُمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " غُرٌّ مُحَجَّلُونَ مِنْ أَثَرِ السُّجُودِ ، وَذَرَارِيُّهُمْ نُورُهُمْ بَيْنَ أَيْدِيهِمْ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ وَلَهُ طُرُقٌ رَوَاهَا أَحْمَدُ ذَكَرْتُهَا فِي الْبَعْثِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” میں وہ پہلا فرد ہوؤں گا ، جسے ( قیامت کے دن ) سر اٹھانے کی اجازت دی جائے گی ، میں اپنا سر اٹھاؤں گا ، اور پھر اپنے دائیں اور بائیں موجود اپنی امت کے افراد کو پہچان لوں گا ، عرض کی گئی : یا رسول اللہ ! آپ انہیں کیسے پہچانیں گے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : وہ سجدوں کے آثار کی وجہ سے چمکدار پیشانیوں والے ہوں گے ، اور اُن کے بال بچے اُن کا نور ہوں گے ، جو اُن کے آگے موجود ہوں گے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ، اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ” ثقہ “ ہیں اس روایت کے مختلف طرق ہیں ، جنہیں امام أحمد نے نقل کیا ہے ، میں نے یہ روایت ” دوبارہ زندہ کیے جانے “ سے متعلق باب میں ذکر کی ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3509
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حدیث
تخریج حدیث «المعجم الاوسط للطبرانى باب الباء من اسمه بكر 3312 المستدرك على الصحيحين للحاكم كتاب التفسير ، تفسير سورة الحديد 3719 مسند احمد بن حنبل ، مسند الانصار حديث أبى الدرداء 21204 مسند عبد الله المبارك 105 ، شعب الإيمان للبيهقى فضل الوضوء ، 2623 الزبد والرقائق لابن المبارك ما رواه نعيم بن حماد فى نسخته زائدا على ما رواه باب صفة النار 1987»