حدیث نمبر: 3508
وَعَنْ رَبِيعَةَ بْنِ كَعْبٍ قَالَ : كُنْتُ أَخْدُمُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نَهَارِي فَإِذَا كَانَ اللَّيْلُ أَوَيْتُ إِلَى بَابِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَبِتُّ عِنْدَهُ فَلَا أَزَالُ أَسْمَعُهُ يَقُولُ : " سُبْحَانَ اللَّهِ سُبْحَانَ اللَّهِ سُبْحَانَ رَبِّي " حَتَّى أَمَلَّ أَوْ تَغْلِبَنِي عَيْنِي فَأَنَامَ فَقَالَ يَوْمًا : " يَا رَبِيعَةُ سَلْنِي فَأُعْطِيَكَ " فَقُلْتُ : أَنْظِرْنِي حَتَّى أَنْظُرَ ، وَتَذَكَّرْتُ أَنَّ الدُّنْيَا فَانِيَةٌ مُنْقَطِعَةٌ فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ أَسْأَلُكَ أَنْ تَدْعُوَ اللَّهَ أَنْ يُنَجِّيَنِي مِنَ النَّارِ وَيُدْخِلَنِي الْجَنَّةَ فَسَكَتَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ثُمَّ قَالَ : " مَنْ أَمَرَكَ بِهَذَا ؟ " قَالَ : قُلْتُ : مَا أَمَرَنِي بِهِ أَحَدٌ وَلَكِنِّي عَلِمْتُ أَنَّ الدُّنْيَا مُنْقَطِعَةٌ فَانِيَةٌ وَأَنْتَ مِنَ اللَّهِ بِالْمَكَانِ الَّذِي أَنْتَ مِنْهُ فَأَحْبَبْتُ أَنْ تَدْعُوَ اللَّهَ قَالَ : " إِنِّي فَاعِلٌ فَأَعِنِّي بِكَثْرَةِ السُّجُودِ " . ¤ قُلْتُ : فِي الصَّحِيحِ بَعْضُهُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ ابْنُ إِسْحَاقَ وَهُوَ ثِقَةٌ وَلَكِنَّهُ مُدَلِّسٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ربیعہ بن کعب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں دن کے وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کیا کرتا تھا ، رات کے وقت میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دروازے کے پاس آ جاتا ، اور وہاں رات گزار دیتا تھا ، میں آپ کو ”« سبحان الله سبحان الله سبحان الله سبحان ربي » پڑھتے سنتا رہتا ، یہاں تک کہ میں تھک جاتا ( راوی کو شک ہے ، شاید یہ الفاظ ہیں : ) میری آنکھ لگ جاتی ، اور میں سو جاتا ، ایک دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اے ربیعہ ! تم مجھ سے مانگو ! میں تمہیں عطا کروں گا ، میں نے عرض کی : آپ مجھے موقع دیجے تاکہ میں غور کر لوں ، میں نے سوچا دنیا تو فنا ہونے والی ہے ، اور الگ ہو جانے والی ہے ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں آپ سے یہ مانگتا ہوں کہ آپ اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کیجئے کہ وہ مجھے جہنم سے نجات عطا کر دے اور مجھے جنت میں داخل کر دے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : تمہیں کس نے یہ کہا: ہے ؟ میں نے عرض کی : مجھے کسی نے یہ نہیں کہا: ، لیکن مجھے اس بات کا پتہ ہے کہ دنیا الگ ہو جائے گی ، اور فنا ہو جائے گی ، اور آپ کو اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں جو مقام حاصل ہے ، وہ تو ہے ہی ، تو میں نے اس بات کو پسند کیا کہ آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کریں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میں ایسا کر دوں گا ، تم بکثرت سجدوں کے ذریعے میری مدد کرنا “ ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ” صحیح “ میں اس کا کچھ حصہ منقول ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابن اسحاق ہے وہ ” ثقہ “ ہے ، لیکن تدلیس کرنے والا ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3508
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف