حدیث نمبر: 3503
وَعَنْ زِيَادِ بْنِ أَبِي زِيَادٍ مَوْلَى بَنِي مَخْزُومٍ عَنْ خَادِمِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَجُلٍ أَوِ امْرَأَةٍ قَالَ : كَانَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِمَّا يَقُولُ لِلْخَادِمِ : " أَلَكَ حَاجَةٌ ؟ " قَالَ : حَتَّى كَانَ ذَاتَ يَوْمٍ قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ حَاجَتِي قَالَ : " وَمَا حَاجَتُكَ ؟ " قَالَ : حَاجَتِي أَنْ تَشْفَعَ لِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ ! قَالَ : " وَمَنْ دَلَّكَ عَلَى هَذَا ؟ " قَالَ : رَبِّي - عَزَّ وَجَلَّ - قَالَ : " إِمَّا لَا فَأَعِنِّي بِكَثْرَةِ السُّجُودِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

زیاد بن ابوزیاد ، جو زیاد ، بنو مخزوم کے غلام ہیں ، وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے خادم کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں : وہ خادم کوئی مرد تھا ، یا خاتون تھیں ، وہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خادم سے یہ دریافت کرتے تھے : کہ کیا تمہیں کوئی کام ہے ؟ یہاں تک کہ ایک دن اس خادم نے عرض کی : یا رسول اللہ ! مجھے ایک کام ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : تمہیں کیا کام ہے ، اس خادم نے عرض کی : مجھے یہ ضرورت ہے کہ آپ قیامت کے دن میری شفاعت کریں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : اس بارے میں تمہاری رہنمائی کس نے کی ہے ؟ خادم نے جواب دیا : میرے پروردگار نے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ٹھیک ہے ، لیکن تم بکثرت سجدوں کے ذریعے میری مدد کرنا ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3503
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح