حدیث نمبر: 3502
وَعَنْ مُطَرِّفٍ قَالَ : قَعَدْتُ إِلَى نَفَرٍ مِنْ قُرَيْشٍ فَجَاءَ رَجُلٌ فَجَعَلَ يُصَلِّي وَيَرْكَعُ وَيَسْجُدُ وَلَا يَقْعُدُ فَقُلْتُ : وَاللَّهِ مَا أَرَى هَذَا يَدْرِي يَنْصَرِفُ عَلَى شَفْعٍ أَوْ عَلَى وِتْرٍ فَقَالُوا : أَلَا تَقُومُ إِلَيْهِ فَتَقُولُ لَهُ ؟ قَالَ : فَقُمْتُ فَقُلْتُ : يَا عَبْدَ اللَّهِ مَا أَرَاكَ تَنْصَرِفُ عَلَى شَفْعٍ أَوْ عَلَى وِتْرٍ قَالَ : وَلَكِنَّ اللَّهَ يَدْرِي ، وَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " مَنْ سَجَدَ لِلَّهِ سَجْدَةً كَتَبَ اللَّهُ لَهُ بِهَا حَسَنَةً وَحَطَّ بِهَا عَنْهُ خَطِيئَةً وَرَفَعَ لَهُ بِهَا دَرَجَةً " فَقُلْتُ : مَنْ أَنْتَ ؟ فَقَالَ : أَبُو ذَرٍّ فَرَجَعْتُ إِلَى أَصْحَابِي فَقُلْتُ : جَزَاكُمُ اللَّهُ مِنْ جُلَسَاءِ شَرٍّ أَمَرْتُمُونِي أَنْ أُعَلِّمَ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . ¤ وَفِي رِوَايَةٍ : فَرَأَيْتُهُ يُطِيلُ الْقِيَامَ وَيُكْثِرُ الرُّكُوعَ وَالسُّجُودَ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ : مَا أَلَوْتُ أَنْ أُحْسِنَ ، رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " مَنْ رَكَعَ رَكْعَةً أَوْ سَجَدَ سَجْدَةً رُفِعَ بِهَا دَرَجَةً وَحُطَّ عَنْهُ بِهَا خَطِيئَةٌ " . ¤ رَوَاهُ كُلَّهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ بِنَحْوِهِ بِأَسَانِيدَ ، وَبَعْضُهَا رِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، وَرَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ . ¤
محمد محی الدین

مطرف بیان کرتے ہیں : میں قریش سے تعلق رکھنے والے کچھ افراد کے پاس بیٹھا ہوا تھا ، اسی دوران ایک شخص آیا ، اس نے نماز ادا کرنا شروع کی ، وہ رکوع اور سجدے کر رہا تھا ، لیکن قعدہ نہیں کر رہا تھا ، میں نے کہا: اللہ کی قسم ! مجھے اس شخص کی سمجھ نہیں آ رہی کہ یہ جفت تعداد کے بعد نماز ختم کرے گا ؟ یا طاق تعداد کے بعد کرے گا ؟ اُن لوگوں نے کہا: تم اُٹھ کے اُس کے پاس جا کر ، اُس سے یہ بات کہ دو ! مطرف کہتے ہیں : میں اُٹھا میں نے کہا: اے اللہ کے بندے ! تمہارے بارے میں مجھے یہ اندازہ نہیں ہو رہا کہ تم جفت رکعت کے بعد نماز ختم کرو گے ؟ یا طاق رکعت کے بعد کرو گے ؟ اس نے جواب دیا : لیکن اللہ تعالیٰ کو تو یہ بات پتہ ہے ، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جو شخص اللہ تعالیٰ کے لئے ایک سجدہ کرتا ہے ، اللہ تعالٰی اس سجدے کی وجہ سے اس کے لئے ایک نیکی نوٹ کرتا ہے ، اور اس سجدے کی وجہ سے اس کے ایک گناہ کو ختم کر دیتا ہے ، اور اس سجدے کی وجہ سے اس کے ایک درجے کو بلند کرتا ہے “ ۔ مطرف کہتے ہیں : میں نے دریافت کیا : آپ کون ہیں ؟ انہوں نے جواب دیا : ابوذر میں اپنے ساتھیوں کے پاس واپس آیا ، میں نے کہا: اللہ تعالیٰ تمہیں ایسا بدلہ دے کہ جو برے ساتھیوں کو دیا جاتا ہے ، تم لوگوں نے مجھے یہ ہدایت کی تھی کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے ایک صاحب کو تعلیم دوں ؟ ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : میں نے ان کو دیکھا کہ وہ طویل قیام کر رہے تھے ، اور بکثرت رکوع و سجود کر رہے تھے میں نے ان کے سامنے یہ بات ذکر کی ، تو انہوں نے فرمایا : میں نے اچھے طریقے سے نماز ادا کرنے میں کوئی کوتاہی نہیں کی ہے ، کیونکہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جو شخص ایک مرتبہ رکوع کرتا ہے ، یا ایک مرتبہ سجدہ کرتا ہے ، تو اس کے ذریعے اس کے درجے کو بلند کیا جاتا ہے ، اور اس کے ذریعے اس کے گناہ کو مٹا دیا جاتا ہے “ ۔
یہ تمام روایات امام أحمد نے نقل کی ہیں ، امام بزار نے اس کی مانند روایات مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہیں ، ان میں سے بعض کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3502
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح