مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
أبواب العيدين— عیدین سے متعلق ابواب
بَابُ عَدَدِ الْوِتْرِ . باب: وتر کی تعداد
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَابِيٍّ قَالَ : جِئْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو بِعَرَفَةَ فَرَأَيْتُهُ وَقَدْ ضَرَبَ فُسْطَاطًا فِي الْحِلِّ وَفُسْطَاطًا فِي الْحَرَمِ فَقُلْتُ لَهُ : لِمَ فَعَلْتَ هَذَا ؟ فَقَالَ : تَكُونُ صَلَاتِي فِي الْحَرَمِ وَإِذَا خَرَجْتُ إِلَى أَهْلِي كُنْتُ فِي الْحِلِّ قُلْتُ : كَيْفَ تُوتِرُ ؟ قَالَ : أَعْجَبُ الْوِتْرِ إِلَيَّ سَبْعٌ ; خَلَقَ اللَّهُ السَّمَاوَاتِ سَبْعًا وَالْأَرَضِينَ سَبْعًا وَالْأَيَّامَ سَبْعًا وَجَعَلَ الطَّوَافَ سَبْعًا وَ [ السَّعْيَ ] بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ سَبْعًا وَرَمْيَ الْجِمَارِ سَبْعَ حَصَيَاتٍ ثُمَّ قَالَ : مَا خَلَقَ اللَّهُ شَيْئًا فِي الْأَرْضِ مِنَ الْجَنَّةِ إِلَّا هَذِهِ الْيَاقُوتَةَ الرُّكْنَ الْأَسْوَدَ ، وَاللَّهِ لِيُرْفَعَنَّ قَبْلَ يَوْمِ الْقِيَامَةِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُمَرَ رَوَى عَنْهُ إِسْحَاقُ بْنُ رَاهَوَيْهِ وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤عبداللہ بن بابی بیان کرتے ہیں : میں عرفہ میں ، سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا ، میں نے انہیں دیکھا کہ انہوں نے حرم کی حدود کے باہر ایک خیمہ لگایا ہے ، اور حرم کی حدود کے اندر ایک خیمہ لگایا ہے ، میں نے ان سے دریافت کیا : آپ نے ایسا کیوں کیا ہے ؟ انہوں نے فرمایا : اس لئے تاکہ میری نماز حرم کی حدود میں ہو ، اور جب میں نکل کر اپنے اہل کی طرف جاؤں ، تو میں حرم کی حدود سے باہر ہو جاؤں ، میں نے دریافت کیا : آپ وتر کیسے ادا کرتے ہیں ؟ انہوں نے فرمایا : میرے نزدیک سات رکعت وتر ادا کرنا زیادہ پسندیدہ ہے ، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے سات آسمان پیدا کیے ہیں ، سات زمینیں بنائی ہیں ، سات دن بنائے ہیں ، طواف میں سات چکر ہوتے ہیں ، صفا اور مروہ کے درمیان سعی میں سات چکر ہوتے ہیں ، جمرات کو سات کنکریاں ماری جاتی ہیں ، پھر انہوں نے یہ بات ارشاد فرمائی : اللہ تعالیٰ نے جنت کی کوئی بھی چیز زمین میں پیدا نہیں کی ہے ( یعنی رکھی نہیں ہے ) صرف اس یا قوت ( یعنی حجر اسود ) کا معاملہ مختلف ہے ، اور قیامت سے پہلے اللہ تعالیٰ اسے اٹھا لے گا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی اسماعیل بن عمر ہے ، اسحاق بن راہویہ نے اس سے روایت نقل کی ہے ، میں اس سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔