مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الإيمان— ایمان کے بارے میں روایات
بَابُ لَا يَفْتِكُ مُؤْمِنٌ . باب: مؤمن دھوکہ سے حملہ نہیں کرتا
وَعَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ أَنَّ مُعَاوِيَةَ دَخَلَ عَلَى عَائِشَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا - فَقَالَتْ لَهُ : أَمَا خِفْتَ أَنْ أُقْعِدَ لَكَ رَجُلًا فَيَقْتُلَكَ ؟ فَقَالَ : مَا كُنْتِ لِتَفْعَلِي وَأَنَا فِي بَيْتِ أَمَانٍ ، وَقَدْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : يَعْنِي : " الْإِيمَانُ قَيْدُ الْفَتْكِ " كَيْفَ أَنَا فِي الَّذِي بَيْنِي وَبَيْنَكِ وَفِي حَوَائِجِكِ ؟ قَالَتْ : صَالِحٌ . قَالَ : فَدَعِينَا وَإِيَّاهُمْ حَتَّى نَلْقَى رَبَّنَا - عَزَّ وَجَلَّ - . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، إِلَّا أَنَّ الطَّبَرَانِيَّ قَالَ : عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ مَرْوَانَ قَالَ : دَخَلْتُ مَعَ مُعَاوِيَةَ عَلَى عَائِشَةَ ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤سعید بن مسیب بیان کرتے ہیں : سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئے ، تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اُن سے فرمایا : کیا تمہیں یہ اندیشہ نہیں ہوا ؟ کہ میں نے تمہارے لیے کسی شخص کو ( اپنے گھر میں ، چھپا کر ) بٹھا کر رکھا ہو گا اور وہ تمہیں قتل کر دے گا ؟ تو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : آپ ایسا نہیں کر سکتی ہیں ، میں امان والے گھر میں موجود ہوں اور میں ، نبی اکرم علی صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک بات ارشاد فرماتے ہوئے سن چکا ہوں ( راوی بیان کرتے ہیں : ) سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی مراد ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان تھا : ” ایمان ، دھوکے سے حملہ کرنے کے لئے بیڑی ہے “ ۔ ( پھر سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے دریافت کیا : ) آپ کی خدمت اور آپ کی ضروریات کی تکمیل کے حوالے سے ، میں کیسا ہوں ؟ سیدہ عائشہ نے جواب دیا : اچھے ہو ! سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا: پھر آپ مجھے اور اُن لوگوں کو ( ہمارے حال پر ) رہنے دیں ، یہاں تک کہ ہم اپنے پروردگار کی بارگاہ میں حاضر ہو جائیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے ، اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، تاہم امام طبرانی نے یہ الفاظ نقل کئے ہیں : یہ سعید بن مسیب کے حوالے سے ، مروان سے منقول ہے ، وہ بیان کرتا ہے : میں ، سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے ہمراہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
اس روایت کی سند میں ایک راوی علی بن زید ہے اور وہ ضعیف ہے ۔