حدیث نمبر: 344
وَعَنِ الْحَسَنِ قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى الزُّبَيْرِ فَقَالَ : أَلَا أَقْتُلُ لَكَ عَلِيًّا ؟ قَالَ : لَا ، وَكَيْفَ تَقْتُلُهُ وَمَعَهُ الْجُنُودُ ؟ قَالَ : أَلْحَقُ بِهِ فَأَفْتِكُ بِهِ . فَقَالَ : لَا ، إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِنَّ الْإِيمَانَ قَيْدُ الْفَتْكِ ، لَا يَفْتِكُ مُؤْمِنٌ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ مُبَارَكُ بْنُ فَضَالَةَ ، وَهُوَ ثِقَةٌ وَلَكِنَّهُ مُدَلِّسٌ ، وَلَكِنَّهُ قَالَ : حَدَّثَنَا الْحَسَنُ . ¤
محمد محی الدین

حسن بصری بیان کرتے ہیں : ایک شخص سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور بولا: کیا میں آپ کے لئے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو قتل نہ کر دوں ؟ سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : جی نہیں ! تم انہیں کیسے قتل کر سکتے ہو ؟ جبکہ اُن کے ساتھ لشکر موجود ہے ؟ اس نے کہا: میں اُن کے ساتھ جا کے مل جاتا ہوں ، اور پھر دھوکہ سے اُن پر حملہ کر دوں گا ، تو سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : جی نہیں ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ارشاد فرمایا ہے : ” ایمان ، دھوکے سے حملہ کرنے کے لئے بیڑی ہے ، مؤمن دھوکہ سے حملہ نہیں کرتا ہے “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی مبارک بن فضالہ ہے ، وہ ثقہ ہے ، لیکن تدلیس کرتا ہے ، تاہم اس روایت میں اُس نے یہ کہا: ہے : حسن بصری نے ہمیں یہ بات بیان کی ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الإيمان / حدیث: 344
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن۔
تخریج حدیث «اخرجه الامام احمد فى مسنده 166/1 اورده المؤلف فى زوائد المسند 133»