حدیث نمبر: 346
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَيْسَ بِمُؤْمِنٍ مُسْتَكْمِلِ الْإِيمَانِ مَنْ لَمْ يَعُدَّ الْبَلَاءَ نِعْمَةً ، وَالرَّخَاءَ مُصِيبَةً " . قَالُوا : كَيْفَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " لِأَنَّ الْبَلَاءَ لَا يَتْبَعُهُ إِلَّا الرَّخَاءُ ، وَكَذَلِكَ الرَّخَاءُ لَا يَتْبَعُهُ إِلَّا الْبَلَاءُ وَالْمُصِيبَةُ ، وَلَيْسَ بِمُؤْمِنٍ مُسْتَكْمِلِ الْإِيمَانِ مَنْ لَمْ يَسْكُنْ فِي صِلَاتِهِ " . قَالُوا : وَلِمَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " لِأَنَّ الْمُصَلِّي يُنَاجِي رَبَّهُ ، فَإِذَا كَانَ فِي غَيْرِ صَلَاةٍ إِنَّمَا يُنَاجِي ابْنَ آدَمَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ يَحْيَى الْمَدَنِي . قَالَ الْبُخَارِيُّ : كَانَ يَضَعُ الْحَدِيثَ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” وہ مؤمن ، کامل ایمان والا نہیں ہوتا ، جو آزمائش کو نعمت اور خوشحالی کو مصیبت شمار نہیں کرتا ، لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! یہ کیسے ہو سکتا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : کیونکہ ہر آزمائش کے بعد سہولت آنی ہوتی ہے ، اسی طرح ہر سہولت کے بعد ، آزمائش اور مصیبت آتی ہے ، اور وہ شخص کامل ایمان والا نہیں ہوتا ، جو نماز میں پرسکون نہیں رہتا ، لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! وہ کیوں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : کیونکہ نمازی ، اپنے پروردگار کی بارگاہ میں مناجات کر رہا ہوتا ہے اور جب آدمی نماز کی حالت میں نہ ہو ، تو وہ انسان سے مناجات کرتا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی عبدالعزیز بن یحیی مدنی ہے ، امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں : وہ حدیث ایجاد کرتا تھا ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الإيمان / حدیث: 346
درجۂ حدیث محدثین: إسناده موضوع
تخریج حدیث «اخرجه الامام الطبراني فى معجمه الكبير 10949»