مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
أبواب العيدين— عیدین سے متعلق ابواب
بَابُ صَلَاةِ الضُّحَى . باب: چاشت کی نماز
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي سَفَرٍ فَصَلَّى سُبْحَةَ الضُّحَى ثَمَانِ رَكَعَاتٍ فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ : " إِنِّي صَلَّيْتُ صَلَاةَ رَغْبَةٍ وَرَهْبَةٍ وَسَأَلْتُ رَبِّي ثَلَاثًا فَأَعْطَانِي ثِنْتَيْنِ وَمَنَعَنِي وَاحِدَةً ، ( أَنْ لَا يَبْتَلِيَ أُمَّتِي بِالسِّنِينِ ، وَلَا يُظْهِرَ عَلَيْهِمْ عَدُوَّهُمْ فَفَعَلَ وَسَأَلْتُهُ ) أَنْ لَا يُلْبِسَهُمْ شِيَعًا فَأَبَى عَلَيَّ " . ¤ قُلْتُ : لِأَنَسٍ عِنْدَ التِّرْمِذِيِّ غَيْرُ هَذَا . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے ایک سفر کے دوران نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چاشت کے وقت آٹھ رکعات ادا کیں ، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز مکمل کی ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” میں نے ایک ایسی نماز ادا کی ہے ، جس میں رغبت بھی پائی جاتی ہے ، اور اس میں ڈرنے کا پہلو بھی ہے ، میں نے اپنے پروردگار سے تین چیزیں مانگی تھیں ، تو اُس نے دو چیزیں مجھے عطا کر دیں ، اور ایک چیز مجھے عطا نہیں کی ، میں نے اُس سے یہ مانگا تھا ( اُس کے بعد اصل متن میں کچھ الفاظ نہیں ہیں : ) اور یہ کہ وہ میری امت کو قحط سالی میں مبتلاء نہیں کرے گا ، اور اُس کے دشمن کو ان پر غالب نہیں کرے گا ، تو اس نے ایسا ہی کیا ، اور میں نے اس سے یہ دعا کی : کہ وہ اُن کو مختلف گروہوں میں تقسیم نہیں کرے گا ، تو اُس نے میری یہ بات نہیں مانی “ ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : سیدنا انس رضی اللہ عنہ کے حوالے سے منقول حدیث امام ترمذی نے بھی نقل کی ہے ، لیکن وہ اس حدیث کے علاوہ ہے ، یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔