مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
أبواب العيدين— عیدین سے متعلق ابواب
بَابُ صَلَاةِ الضُّحَى . باب: چاشت کی نماز
وَعَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ أَنَّهُ خَرَجَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمًا فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ فَجَلَسَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُحَدِّثُ أَصْحَابَهُ فَقَالَ : " مَنْ قَامَ إِذَا اسْتَقْبَلَتْهُ الشَّمْسُ فَتَوَضَّأَ فَأَحْسَنَ وُضُوءَهُ ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ غُفِرَ لَهُ خَطَايَاهُ وَكَانَ كَمَا وَلَدَتْهُ أُمُّهُ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ . ¤سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : غزوہ تبوک کے موقع پر ، ایک دن وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے ہوئے اپنے ساتھیوں کے ساتھ بات چیت کر رہے تھے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص اُس وقت کھڑا ہو ، جب سورج اُس کے سامنے آ چکا ہو ، اور وہ اچھی طرح وضو کرے ، پھر کھڑا ہو کر نماز ادا کرے ، تو اس کے گناہوں کی ( اللہ تعالیٰ ) مغفرت کر دیتا ہے ، اور وہ شخص یوں ہو جاتا ہے ، جیسے اُس دن تھا ، جب اُس کی والدہ نے اُسے جنم دیا تھا “ ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ، جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔