حدیث نمبر: 3407
وَعَنْ عَائِذِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ : كَانَ فِي الْمَاءِ قِلَّةٌ فَتَوَضَّأَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَنَضَحَنَا قَالَ : وَالسَّعِيدُ فِي أَنْفُسِنَا مَنْ أَصَابَهُ وَلَا نَرَاهُ إِلَّا قَدْ أَصَابَ الْقَوْمَ كُلَّهُمْ قَالَ : ثُمَّ صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الضُّحَى . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْطَبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : أَتَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِقَدَحٍ أَوْ بِعَسٍّ وَفِي الْمَاءِ قِلَّةٌ فَتَوَضَّأَ ثُمَّ أَمَرَ فَرَشَّ عَلَيْهِمْ أَوْ نَضَحَ عَلَيْهِمْ وَفِيهِ رَجُلٌ لَمْ يُسَمَّ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عائذ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : پانی تھوڑا تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا ، تو وہ پانی آپ نے ہمیں دے دیا ، راوی کہتے ہیں : ہم میں سے خوش نصیب وہ تھا ، جسے وہ پانی مل گیا ، اور اس ( پانی ) کے بارے میں ہمارا یہ خیال ہے کہ وہ تمام لوگوں کو مل گیا تھا ، راوی بیان کرتے ہیں : اُس کے بعد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں چاشت کے وقت نماز پڑھائی ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک پیالہ ، یا ایک برتن لایا گیا ، جس میں تھوڑا پانی تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے تحت وہ لوگوں پر چھڑک دیا گیا ( چھڑکنے کے لئے لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے ) ۔ اس روایت کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3407
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف