حدیث نمبر: 340
عَنْ أَنَسٍ : كُنْتُ جَالِسًا وَرَجُلٌ عِنْدَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يُؤْمِنُ عَبْدٌ حَتَّى يُحِبَّ لِأَخِيهِ الْمُسْلِمِ مَا يُحِبُّ لِنَفْسِهِ " . قَالَ أَنَسٌ : فَخَرَجْتُ أَنَا وَالرَّجُلُ إِلَى السُّوقِ فَإِذَا سِلْعَةٌ تُبَاعُ فَسَاوَمْتُهُ ، فَقَالَ : بِثَلَاثِينَ ، فَنَظَرَ الرَّجُلُ فَقَالَ : قَدْ أَخَذْتُهَا بِأَرْبَعِينَ ، فَقَالَ صَاحِبُهَا : مَا يَحْمِلُكَ عَلَى هَذَا وَأَنَا أُعْطِيكَهَا بِأَقَلَّ مِنْ هَذَا ؟ ثُمَّ نَظَرَ أَيْضًا فَقَالَ : قَدْ أَخَذْتُهَا بِخَمْسِينَ ، فَقَالَ صَاحِبُهَا : مَا يَحْمِلُكَ عَلَى هَذَا وَأَنَا أُعْطِيكَهَا بِأَقَلَّ مِنْ هَذَا ؟ قَالَ : إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " لَا يُؤْمِنُ عَبْدٌ حَتَّى يُحِبَّ لِأَخِيهِ مَا يُحِبُّ لِنَفْسِهِ " ، وَأَنَا أَرَى أَنَّهُ صَالِحٌ بِخَمْسِينَ . ¤ قُلْتُ : فِي الصَّحِيحِ طَرَفٌ مِنْهُ عَنْ أَنَسٍ وَحْدَهُ . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ میں اور ایک شخص ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : بندہ ، اس وقت تک مؤمن نہیں ہوتا ، جب تک وہ اپنے مسلمان بھائی کے لئے وہی چیز پسند نہیں کرتا ، جس کو وہ اپنے لیے پسند کرتا ہے ، سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں اور وہ صاحب ، اُٹھ کر بازار کی طرف گئے ، وہاں ایک سامان فروخت ہو رہا تھا ، میں نے اُس کی قیمت دریافت کی : تو اُس شخص نے بتایا : یہ تیس کے عوض میں ہے ، ان صاحب نے اُس کو دیکھا اور بولے : میں اسے چالیس کے عوض میں لوں گا ، اُس شخص نے کہا: تم ایسا کیوں کر رہے ہو ؟ جبکہ میں تمہیں اس سے کم قیمت میں یہ چیز دے رہا ہوں ، اُن صاحب نے پھر اس چیز کا جائزہ لیا اور بولے : میں اسے پچاس کے عوض میں لوں گا ، دوسرے فریق نے کہا: تم ایسا کیوں کر رہے ہو ؟ جبکہ میں تمہیں یہ چیز اس سے کم قیمت میں دے رہا ہوں ، اُن صاحب نے بتایا : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے : ” بندہ ، اس وقت تک مؤمن نہیں ہوتا ہے ، جب تک وہ اپنے بھائی کے لئے ، اُسی چیز کو پسند نہیں کرتا ، جس کو وہ اپنے لیے پسند کرتا ہے “ تو میری یہ رائے ہے کہ یہ چیز پچاس ( درہم یا دینار ) کی ہونی چاہیے ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ” صحیح “ میں اس روایت کا ایک حصہ مذکور ہے ، جو صرف سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے منقول ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الإيمان / حدیث: 340
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحیح
تخریج حدیث «اورده المؤلف فى كشف الاستار 68»