مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الإيمان— ایمان کے بارے میں روایات
بَابٌ فِيمَنْ أَحْسَنَ بَعْدَ إِسْلَامِهِ أَوْ أَسَاءَ . باب: جو شخص اسلام قبول کرنے کے بعد کوئی اچھائی کرے یا برائی کرے اُس کا بیان
عَنْ جَابِرٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : إِنَّ رَجُلًا قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَنُؤَاخَذُ بِمَا عَمِلْنَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ ؟ فَقَالَ : " مَنْ أَحْسَنَ فِي الْإِسْلَامِ لَمْ يُؤَاخَذْ بِمَا عَمِلَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ ، وَمَنْ أَسَاءَ مِنْكُمْ فِي الْإِسْلَامِ أُخِذَ بِمَا عَمِلَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ وَالْإِسْلَامِ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ أَسِيدُ بْنُ زَيْدٍ ، وَهُوَ كَذَّابٌ . ¤سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہم نے زمانہ جاہلیت میں جو عمل کیے تھے کیا اُن کے حوالے سے ہمارا مواخذہ ہو گا ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جو شخص اسلام قبول کرنے کے بعد اچھے کام کرے ، اُس کے اُن کاموں کا مواخذہ نہیں ہو گا ، جو اُس نے زمانہ جاہلیت میں کیے تھے ، اور تم میں سے جو شخص اسلام قبول کرنے کے بعد بھی برے کام کرے گا ، تو اُس نے زمانہ جاہلیت میں ، اور زمانہ اسلام میں ، جو برے کام کیے ہوں گے ، اُن ( سب ) کے حوالے سے اس شخص کا مواخذہ ہو گا ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی اسید بن زید ہے اور وہ کذاب ہے ۔