مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الإيمان— ایمان کے بارے میں روایات
بَابٌ فِيمَنْ عَمِلَ خَيْرًا ثُمَّ أَسْلَمَ . باب: جو شخص کوئی بھلائی کا کام کرے اور پھر مسلمان ہو جائے
وَعَنْ صَعْصَعَةَ بْنِ نَاجِيَةَ الْمُجَاشِعِيِّ ، وَهُوَ جَدُّ الْفَرَزْدَقِ بْنِ غَالِبِ بْنِ صَعْصَعَةَ ، قَالَ : قَدِمْتُ عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَعَرَضَ عَلَيَّ الْإِسْلَامَ ، فَأَسْلَمْتُ وَعَلَّمَنِي آيًا مِنَ الْقُرْآنِ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي عَمِلْتُ أَعْمَالًا فِي الْجَاهِلِيَّةِ ، فَهَلْ لِي فِيهَا مَنْ أَجْرٍ ؟ قَالَ : " وَمَا عَمِلْتَ ؟ " فَقُلْتُ : إِنِّي أَضْلَلْتُ لِي نَاقَتَيْنِ عَشْرَاوَيْنِ ، فَخَرَجْتُ أَتْبَعُهُمَا عَلَى جَمَلٍ لِي ، فَرُفِعَ لِي بَيْتَانِ فِي فَضَاءٍ مِنَ الْأَرْضِ ، فَقَصَدْتُ قَصْدَهُمَا ، فَوَجَدْتُ فِي أَحَدِهِمَا شَيْخًا كَبِيرًا ، فَقُلْتُ : هَلْ أَحْسَسْتَ نَاقَتَيْنِ عَشْرَاوَيْنِ ؟ قَالَ : مَا نَارَاهُمَا ، قُلْتُ : مِيسَمُ بَنِي دَارِمٍ . قَالَ : قَدْ أَصَبْنَا نَاقَتَيْكَ ، وَنَتَجْنَاهُمَا فَظَأَرْنَاهُمَا ، وَقَدْ نَعَّشَ اللَّهُ بِهِمَا أَهْلَ بَيْتٍ مِنْ قَوْمِكَ مِنَ الْعَرَبِ مِنْ مُضَرَ . قَالَ : فَبَيْنَا هُوَ يُخَاطِبُنِي إِذْ نَادَتِ امْرَأَةٌ مِنَ الْبَيْتِ الْآخَرِ : وَلَدَتْ . قَالَ : وَمَا وَلَدَتْ ؟ إِنْ كَانَ غُلَامًا فَقَدْ شَرَكَنَا فِي قَوْمِنَا - وَقَالَ الْبَزَّارُ : فَقَدْ تَبَارَكَنَا فِي قَوْمِنَا - وَإِنْ كَانَتْ جَارِيَةً فَادْفِنَاهَا ، فَقَالَتْ : جَارِيَةٌ ؟ ، فَقُلْتُ : مَا هَذِهِ الْمَوْءُودَةُ ؟ قَالَ : ابْنَةٌ لِي ، فَقُلْتُ : إِنِّي أَشْتَرِيهَا مِنْكَ . قَالَ : يَا أَخَا بَنِي تَمِيمٍ ، أَتَقُولُ : أَتَبِيعُ ابْنَتَكَ وَقَدْ أَخْبَرْتُكَ أَنِّي رَجُلٌ مِنَ الْعَرَبِ مِنْ مُضَرَ ؟ فَقُلْتُ : إِنِّي لَا أَشْتَرِي مِنْكَ رَقَبَتَهَا ، إِنَّمَا أَشْتَرِي رُوحَهَا أَنْ لَا تَقْتُلَهَا . قَالَ : بِمَ تَشْتَرِيهَا ؟ قُلْتُ : بِنَاقَتَيَّ هَاتَيْنِ وَوَلَدَيْهِمَا . قَالَ : وَتَزِيدُنِي بَعِيرَكَ هَذَا ؟ قُلْتُ : نَعَمْ ، عَلَى أَنْ تُرْسِلَ مَعِي رَسُولًا ، فَإِذَا بَلَغْتُ إِلَى أَهْلِي رَدَدْتُ إِلَيْكَ الْبَعِيرَ ، فَفَعَلَ ، فَلَمَّا بَلَغْتُ أَهْلِي رَدَدْتُ إِلَيْهِ الْبَعِيرَ ، فَلَمَّا كَانَ فِي بَعْضِ اللَّيْلِ فَكَّرْتُ فِي نَفْسِي أَنَّ هَذِهِ مَكْرُمَةٌ مَا سَبَقَنِي إِلَيْهَا أَحَدٌ مِنَ الْعَرَبِ ، وَظَهَرَ الْإِسْلَامُ وَقَدْ أَحْيَيْتُ ثَلَاثَمِائَةٍ وَسِتِّينَ مَوْءُودَةً ، أَشْتَرِي كُلَّ وَاحِدَةٍ مِنْهُنَّ بِنَاقَتَيْنِ عَشْرَاوَيْنِ وَجَمَلٍ ، فَهَلْ لِي فِي ذَلِكَ مِنْ أَجْرٍ ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَكَ أَجْرٌ إِذْ مَنَّ اللَّهُ عَلَيْكَ بِالْإِسْلَامِ " . قَالَ عَبَّادٌ : وَمِصْدَاقُ قَوْلِ صَعْصَعَةَ قَوْلُ الْفَرَزْدَقِ : ¤ وَجَدِّي الَّذِي مَنَعَ الْوَائِدَاتِ فَأَحْيَا الْوَئِيدَ فَلَمْ يُوأَدِ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْبَزَّارُ ، وَفِيهِ الطُّفَيْلُ بْنُ عَمْرٍو التَّمِيمِيُّ ، قَالَ الْبُخَارِيُّ : لَا يَصِحُّ حَدِيثُهُ . وَقَالَ الْعُقَيْلِيُّ : لَا يُتَابَعُ عَلَيْهِ . ¤سیدنا صعصعہ بن ناجیہ مجاشعی رضی اللہ عنہ ، جو فرزدق بن غالب بن صعصعہ ( یعنی عربی کے مشہور شاعر فرزدق ) کے دادا ہیں ، وہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، آپ نے مجھے اسلام کی دعوت دی ، میں نے اسلام قبول کر لیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے قرآن کی کچھ آیات کی تعلیم دی ، میں نے عرض کی : یا رسول الله ! میں نے زمانہ جاہلیت میں کچھ اچھے کام کیے تھے ، کیا مجھے اُن کا اجر ملے گا ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : تم نے کیا عمل کیا تھا ؟ میں نے بتایا : ایک مرتبہ میری دو اونٹنیاں گم ہو گئی تھیں ، جن کے ہاں بچے کی پیدائش ہونے والی تھی ۔ میں اُن دونوں کی تلاش کے لیے اپنے اونٹ پر سوار ہو کر نکلا ، ایک کھلی جگہ پر میرے سامنے دو گھر آئے ، میں اُن دونوں کی طرف چلا گیا ، اُن دونوں میں سے ایک گھر میں ، میں نے ایک عمر رسیدہ بوڑھے کو پایا ، تو میں نے دریافت کیا : کیا تمہیں دو عشراوی اونٹنیوں کے بارے میں کچھ پتہ ہے ؟ اس نے دریافت کیا : ان دونوں کا نشان کیا ہے ؟ میں نے بتایا : بنو دارم کے مخصوص آلے سے نشان لگایا گیا ، اس نے کہا: تمہاری دو اونٹنیاں ہمیں ملی تھیں ، ہم نے ان کا بچہ پیدا کروا لیا ۔ اللہ تعالیٰ نے ان دونوں کے ذریعے تمہاری قوم کے ، یعنی عربوں کے مضر قبیلے کے دو گھرانوں کو سہولت عطا کی ، ابھی وہ شخص میرے ساتھ گفتگو کر رہا تھا ، کہ اسی دوران ، دوسرے گھر میں سے ایک عورت نے بلند آواز میں یہ کہا: پیدائش ہو گئی ہے ، اس شخص نے دریافت کیا : کیا پیدا ہوا ہے ؟ اگر تو لڑکا ہے ، تو وہ ہماری قوم میں ہمارا حصہ دار ہو گا ۔ یہاں امام بزار نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں ، اُس کے ذریعے ہماری قوم میں برکت ہو گی ، اور اگر لڑکی ہوئی ہے ، تو تم اُسے دفنا دو ! اُس عورت نے جواب دیا : لڑکی ہوئی ہے ، میں نے دریافت کیا : کس کو زندہ درگور کرنے کی بات ہو رہی ہے ؟ وہ کون ہے ؟ اُس شخص نے بتایا : وہ میری بیٹی ہے ، میں نے کہا: میں اُسے تم سے خرید لیتا ہوں ، اُس نے کہا: اے بنو تمیم سے تعلق رکھنے والے فرد ! کیا تم یہ کہہ رہے ہو ؟ کہ میں اپنی بیٹی فروخت کر دوں ، جبکہ میں تمہیں یہ بات بتا چکا ہوں کہ میں ایک عرب ہوں اور میرا تعلق مضر قبیلے سے ہے ، میں نے کہا: میں تم سے اُس کا وجود نہیں خرید رہا ، میں اُس کی زندگی خرید رہا ہوں کہ تم اس کو قتل نہ کرو ! اُس نے دریافت کیا : تم کس چیز کی عوض میں اُسے خریدو گے ؟ میں نے کہا: اپنی اُن دونوں اونٹنیوں اور اُن کے ہاں پیدا ہونے والے بچوں کے عوض میں ، اُس نے کہا: تم اپنا یہ اونٹ بھی مجھے دو گے ، میں نے کہا: ٹھیک ہے ، تم اپنا کوئی آدمی میرے ساتھ بھیج دو ، جب میں اپنے گھر پہنچ جاؤں گا ، تو یہ اونٹ تمہیں بھجوا دوں گا اُس نے ایسا ہی کیا ، جب میں اپنے گھر پہنچا ، تو میں نے اُسے اونٹ واپس کر دیا ، رات کو کسی وقت میں سوچ رہا تھا کہ یہ نیکی مجھ سے پہلے کسی عرب نے نہیں کی ہو گی ، جب اسلام کا ظہور ہوا ، تو اُس وقت تک ، میں 360 بچیوں کی زندگی بچا چکا تھا ، جنہیں زندہ درگور کیا جانا تھا ، میں نے اُن ( بچیوں ) میں سے ہر ایک کو دو عشراوی اونٹنیوں اور ایک اونٹ کے عوض میں خریدا تھا ، تو کیا مجھے اس کا اجر ملے گا ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تمہیں یہ بھی اجر ملا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں اسلام کی دولت نصیب کی ہے ۔ عباد نامی راوی کرتے ہیں : سیدنا صعصعہ رضی اللہ عنہ نے جو بیان کیا تھا ، اُسی کی طرف فرزدق کے اس شعر میں اشارہ پایا جاتا ہے : ” اور میرا دادا ، وہ ہے ، جس نے بچیوں کو زندہ درگور ہونے سے بچایا ، تو اُس ( یعنی میرے دادا ) نے انہیں زندگی دی اور انہیں زندہ دفن نہیں کیا گیا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اسے امام بزار نے بھی نقل کیا ہے ، اس کی سند میں ایک راوی طفیل بن عمرو تمیمی ہے ، امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں ۔ اس کی نقل کردہ حدیث مستند نہیں ہوتی ہے ، عقیلی فرماتے ہیں : اس کی متابعت نہیں کی جاتی ہے ۔