مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
أبواب العيدين— عیدین سے متعلق ابواب
بَابُ الصَّلَاةِ قَبْلَ الْمَغْرِبِ وَبَعْدَهَا . باب: مغرب کی نماز سے پہلے ، اور اس کے بعد نماز ادا کرنا
وَعَنْ أَبِي جَعْفَرٍ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ قَالَ : قُلْنَا لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ : حَدِّثْنَا بِمَا سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَرَأَيْتَ مِنْهُ وَلَا تُحَدِّثْنَا عَنْ غَيْرِكَ وَإِنْ كَانَ ثِقَةً ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ إِلَى أَنْ قَالَ : وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقْرَأُ فِي الرَّكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْفَجْرِ وَالرَّكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْمَغْرِبِ : قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ ، وَقُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ فِي حَدِيثٍ طَوِيلٍ يَأْتِي فِي الْمَنَاقِبِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ ، وَفِيهِ أَصْرَمُ بْنُ حَوْشَبٍ وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤امام ابوجعفر محمد بن علی ( یعنی امام باقر ) بیان کرتے ہیں : ہم نے سیدنا عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ سے کہا: آپ ہمیں وہ حدیث بیان کیجئے جو آپ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی سنی ہو ، اور آپ نے اس وقت بذات خود نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہو ، آپ اپنے علاوہ کسی اور کے حوالے سے ہمیں حدیث بیان نہ کیجئے ، خواہ وہ دوسرا شخص ” ثقہ “ ہی کیوں نہ ہو ، ( راوی بیان کرتے ہیں : ) تو انہوں نے پوری حدیث ذکر کی ، جس میں آگے چل کر یہ الفاظ ہیں : ” نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فجر سے پہلے کی دو رکعات میں ، اور مغرب کے بعد کی دو رکعات ( سنتوں میں ) سورت الکافرون اور سورت اخلاص کی تلاوت کیا کرتے تھے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں ایک طویل حدیث کے ضمن میں نقل کی ہے ، جو آگے چل کر ” مناقب “ سے متعلق باب میں آئے گی ، اگر اللہ نے چاہا ، اس کی سند میں ایک راوی اصرم بن حوشب ہے ، اور وہ متروک ہے ۔