مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
أبواب العيدين— عیدین سے متعلق ابواب
بَابُ الصَّلَاةِ قَبْلَ الْمَغْرِبِ وَبَعْدَهَا . باب: مغرب کی نماز سے پہلے ، اور اس کے بعد نماز ادا کرنا
وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ قَالَ : سَاعَةٌ مَا أَتَيْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ فِيهَا إِلَّا وَجَدْتُهُ ( فِيهَا ) يُصَلِّي مَا بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعَشَاءِ فَسَأَلْتُ عَبْدَ اللَّهِ فَقُلْتُ : سَاعَةٌ مَا أَتَيْتُكَ فِيهَا ( قَطُّ ) إِلَّا وَجَدْتُكَ تُصَلِّي فِيهَا قَالَ : إِنَّهَا سَاعَةُ غَفْلَةٍ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ لَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ وَفِيهِ كَلَامٌ . ¤عبدالرحمن بن یزید بیان کرتے ہیں : ایک گھڑی ایسی ہے کہ اس گھڑی میں ، میں جب بھی سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا ، تو میں نے انہیں اُس گھڑی میں نماز ادا کرتے ہوئے ہی پایا ، وہ مغرب اور عشاء کے درمیان نماز ادا کرتے رہتے تھے میں نے سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے سوال کیا ، میں نے کہا: ایک گھڑی ایسی ہے کہ میں اُس گھڑی میں جب بھی آپ کے پاس آیا ، تو میں نے آپ کو اس گھڑی میں نماز ادا کرتے ہوئے ہی پایا ہے ، تو انہوں نے ارشاد فرمایا : یہ غفلت کی گھڑی ہے ( اس لئے میں اس دوران نماز ادا کرتا رہتا ہوں ) ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی لیث بن ابوسلیم ہے ، اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔