حدیث نمبر: 337
عَنِ السَّائِبِ بْنِ أَبِي السَّائِبِ أَنَّهُ كَانَ يُشَارِكُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَبْلَ الْإِسْلَامِ فِي التِّجَارَةِ ، فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ الْفَتْحِ جَاءَهُ ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَرْحَبًا بِأَخِي وَشَرِيكِي ، كَانَ لَا يُدَارِي وَلَا يُمَارِي ، يَا سَائِبُ ، قَدْ كُنْتَ تَعْمَلُ أَعْمَالًا فِي الْجَاهِلِيَّةِ لَا تُقْبَلُ مِنْكَ ، وَهِيَ الْيَوْمَ تُقْبَلُ مِنْكَ " . وَكَانَ ذَا سَلَفٍ وَصِلَةٍ . ¤ قُلْتُ : رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ ، وَغَيْرُهُ بَعْضَهُ ، وَلَهُ طَرِيقٌ تَأْتِي فِي الْبِرِّ وَالصِّلَةِ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا سائب بن ابوسائب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : اسلام سے پہلے وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے تجارت میں شراکت دار تھے ، فتح مکہ کے دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میرے بھائی اور ( کاروباری ) شراکت دار کو خوش آمدید ہے جو دھوکہ نہیں دیتا اور فریب نہیں دیتا تھا ( پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں مخاطب کر کے فرمایا : ) اے سائب ! تم نے زمانہ جاہلیت میں کئی ایسے کام کیے ، جو تمہاری طرف سے قبول نہیں ہوئے تھے ، وہ آج ( اسلام قبول کر لینے کے بعد ) تمہاری طرف سے قبول ہوں گے ۔ راوی بیان کرتے ہیں : وہ صاحب اُدھار دیدیا کرتے تھے اور صلہ رحمی کرتے تھے ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ابوداؤد اور ، ایک اور صاحب نے ، اس روایت کا کچھ حصہ نقل کیا ہے ، اس کی ایک اور سند بھی ہے ، جو نیکی اور صلہ رحمی سے متعلق باب میں آئے گی ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الإيمان / حدیث: 337
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الامام احمد فى مسنده 425/3 اورده المؤلف فى زوائد المسند 154»