مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
أبواب العيدين— عیدین سے متعلق ابواب
بَابُ الصَّلَاةِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ عِنْدَ الزَّوَالِ . باب: جمعہ کے دن زوال کے وقت نماز ادا کرنا
حدیث نمبر: 3371
عَنْ وَاثِلَةَ قَالَ : سَأَلَ سَائِلٌ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : مَا بَالُ يَوْمِ الْجُمُعَةِ يُؤَذَّنُ فِيهَا بِالصَّلَاةِ نِصْفَ النَّهَارِ وَقَدْ نَهَيْتَ فِي سَائِرِ الْأَيَّامِ ؟ فَقَالَ : " إِنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - يُسَعِّرُ جَهَنَّمَ كُلَّ يَوْمٍ نِصْفَ النَّهَارِ وَيُخْبِيهَا يَوْمَ الْجُمُعَةِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ بَشِيرُ بْنُ عَوْنٍ قَالَ ابْنُ حِبَّانَ : رَوَى مِائَةَ حَدِيثٍ كُلُّهَا مَوْضُوعَةٌ . ¤محمد محی الدین
سیدنا واثلہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا : جمعہ کا کیا معاملہ ہے ؟ کہ اُس کی نماز کے لئے اذان نصف النہار کے وقت دی جاتی ہے ، اور باقی دنوں میں اس چیز سے منع کیا گیا ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” بے شک اللہ تعالیٰ روزانہ نصف النہار کے وقت جہنم کو بھڑکاتا ہے ، اور جمعہ کے دن اُسے نہیں بھڑکاتا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی بشیر بن عون ہے ، ابن حبان بیان کرتے ہیں : اس نے ایک سو احادیث نقل کی ہیں ، اور وہ ساری ایجاد کی ہوئی ہیں ۔