حدیث نمبر: 3348
وَعَنْ مُرَّةَ بْنِ كَعْبٍ - أَوْ كَعْبِ بْنِ مُرَّةَ السُّلَمِيِّ - قَالَ شُعْبَةُ : وَقَدْ حَدَّثَنِي بِهِ مَنْصُورٌ عَنْ سَالِمٍ عَنْ مُرَّةَ أَوْ كَعْبٍ قَالَ : سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَيُّ اللَّيْلِ أَسْمَعُ ؟ قَالَ : " جَوْفُ اللَّيْلِ الْآخِرُ " ثُمَّ قَالَ : " الصَّلَاةُ مَقْبُولَةٌ حَتَّى يَطْلُعَ الصُّبْحُ ثُمَّ لَا صَلَاةَ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ وَتَكُونَ قَدْرَ رُمْحٍ أَوْ رُمْحَيْنِ ثُمَّ الصَّلَاةُ مَقْبُولَةٌ حَتَّى يَقُومَ الظِّلُّ مَقَامَ الرُّمْحِ ، ثُمَّ لَا صَلَاةَ حَتَّى تَزُولَ الشَّمْسُ ثُمَّ الصَّلَاةُ مَقْبُولَةٌ حَتَّى يُصَلَّى الْعَصْرُ ، ثُمَّ لَا صَلَاةَ حَتَّى تَغِيبَ الشَّمْسُ " فَذَكَرَ الْحَدِيثَ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ مِنْ طَرِيقَيْنِ إِحْدَاهُمَا هَذِهِ وَالْأُخْرَى عَنْ سَالِمٍ عَنْ رَجُلٍ عَنْ كَعْبِ بْنِ مُرَّةَ الْبَهْزِيِّ مِنْ غَيْرِ شَكٍّ ، وَقَالَ : " حَتَّى يُصَلِّيَ الصُّبْحَ " بَدَلَ : " حَتَّى يَطْلُعَ الصُّبْحُ " ، وَكَذَلِكَ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ إِلَّا أَنَّ الْإِسْنَادَ الثَّانِيَ فِيهِ رَجُلٌ لَمْ يُسَمَّ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا مرہ بن کعب رضی اللہ عنہ یا شاید سیدنا کعب بن مرہ سلمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : یہاں شعبہ نامی راوی نے یہ بات بیان کی ہے : کہ منصور نے ، سالم کے حوالے سے ، مرہ کے حوالے سے ، یا شاید کعب کے حوالے سے یہ بات نقل کی ہے : وہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا : رات کے کون سے حصے میں ( دعا ) زیادہ سنی جاتی ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : آخری نصف حصہ ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” نماز مقبول ہوتی ہے ، یہاں تک کہ صبح صادق ہو جائے ، پھر ( فجر کے فرضوں اور سنتوں کے علاوہ ) کوئی نماز ادا نہیں کی جائے گی ، جب تک سورج طلوع نہیں ہو جاتا ، اور جب تک وہ ایک یا دو نیزے جتنا بلند نہیں ہو جاتا ، پھر نماز مقبول ہو گی ، یہاں تک کہ سایہ نیزے کی جگہ پر کھڑا ہو جائے ، پھر اُس وقت تک کوئی نماز ادا نہیں کی جائے گی ، جب تک سورج ڈھل نہیں جاتا ، پھر نماز مقبول ہو گی یہاں تک کہ عصر کی نماز ادا کر لی جائے ، پھر کوئی نماز ادا نہیں کی جائے گی ، جب تک سورج غروب نہیں ہو جاتا “ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے دو حوالوں سے نقل کی ہے ، جن میں سے ایک یہ ہے ، اور دوسری سند سالم کے حوالے سے ، ایک شخص کے حوالے سے کعب بن مرہ بہزی سے منقول ہے ، جو کسی شک کے بغیر ہے ، وہ بیان کرتے ہیں : ” یہاں تک کہ صبح کی نماز ادا کر لی جائے “ ۔ یہ ان الفاظ کی جگہ ہے : ” یہاں تک کہ صبح ( صادق ) طلوع ہو جائے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں اسی طرح نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، البتہ دوسری سند میں ایک راوی ایسا ہے ، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3348
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف