مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
أبواب العيدين— عیدین سے متعلق ابواب
بَابُ النَّهْيِ عَنِ الصَّلَاةِ بَعْدَ الْعَصْرِ ، وَغَيْرِ ذَلِكَ . باب: عصر کی نماز کے بعد نماز ادا کرنے کی ممانعت اور دیگر امور کا بیان
عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ ذُؤَيْبٍ أَنَّ عَائِشَةَ أَخْبَرَتْ آلَ الزُّبَيْرِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - صَلَّى عِنْدَهَا رَكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ فَكَانُوا يُصَلُّونَهُمَا ، قَالَ قَبِيصَةُ : فَقَالَ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ : يَغْفِرُ اللَّهُ لِعَائِشَةَ نَحْنُ أَعْلَمُ بِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْ عَائِشَةَ إِنَّمَا كَانَ ذَلِكَ ; لِأَنَّ نَاسًا مِنَ الْأَعْرَابِ أَتَوْا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِهَجِيرٍ فَقَعَدُوا يَسْأَلُونَهُ وَيُفْتِيهِمْ حَتَّى صَلَّى الظُّهْرَ وَلَمْ يُصَلِّ - يَعْنِي بَعْدَهَا - ثُمَّ قَعَدَ يُفْتِيهِمْ حَتَّى صَلَّى الْعَصْرَ فَانْصَرَفَ إِلَى بَيْتِهِ فَذَكَرَ أَنَّهُ لَمْ يُصَلِّ بَعْدَ الظُّهْرِ شَيْئًا فَصَلَّاهُمَا بَعْدَ الْعَصْرِ ، نَحْنُ أَعْلَمُ بِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْ عَائِشَةَ ، نَهَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنِ الصَّلَاةِ بَعْدَ الْعَصْرِ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ ، وَفِيهِ كَلَامٌ ، وَرَوَى الطَّبَرَانِيُّ طَرَفًا مِنْ آخِرِهِ فِي الْكَبِيرِ . ¤قبیصہ بن ذؤیب بیان کرتے ہیں : سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ کے گھرانے کے افراد کو یہ بات بتائی تھی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر کے بعد سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں دو رکعات ادا کی تھیں ، تو وہ لوگ اُن دو رکعات کو ادا کرتے تھے ۔
قبیصہ نامی راوی بیان کرتے ہیں : تو سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اللہ تعالی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی مغفرت کرے !
ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے زیادہ بہتر جانتے تھے ، اصل میں ہوا یہ تھا کہ کچھ دیہاتی لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں دوپہر کے وقت حاضر ہوئے ، وہ بیٹھ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوالات کرتے رہے ، اور آپ انہیں شرعی احکام بیان کرتے رہے ، یہاں تک کہ آپ نے ظہر کی نماز ادا کر لی اور اس کے بعد کی سنتیں ادا نہیں کیں ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ کر ان لوگوں کو مسائل بیان کرتے رہے ، یہاں تک کہ عصر کی نماز کا وقت ہو گیا ، پھر آپ اپنے گھر تشریف لے گئے ، آپ کو یہ بات یاد آئی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر کے بعد سنتیں ادا نہیں کی تھیں ، تو آپ نے وہ دو رکعات عصر کے بعد ادا کر لیں تھیں ، ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے زیادہ بہتر جانتے ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر کے بعد نماز ادا کرنے سے منع کیا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ، جس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ، امام طبرانی نے اس روایت کا آخری حصہ معجم کبیر میں نقل کیا ہے ۔