مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
أبواب العيدين— عیدین سے متعلق ابواب
بَابُ الصَّلَاةِ بَعْدَ الْعَصْرِ . باب: عصر کے بعد نماز ادا کرنا
وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ : صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - صَلَاةَ الْعَصْرِ ثُمَّ دَخَلَ بَيْتِي فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّيْتَ صَلَاةً لَمْ تَكُنْ تُصَلِّيهَا ؟ قَالَ : " قَدِمَ مَالٌ فَشَغَلَنِي عَنْ رَكْعَتَيْنِ كُنْتُ أَرْكِعُهُمَا بَعْدَ الظُّهْرِ فَصَلَّيْتُهُمَا الْآنَ " فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ أَفَتَقْضِيهِمَا إِذَا فَاتَتَا ؟ قَالَ : " لَا " . ¤ قُلْتُ : هُوَ فِي الصَّحِيحِ خَلَا قَوْلَهَا : أَفَتَقْضِيهِمَا إِذَا فَاتَتَا ؟ قَالَ : " لَا " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَابْنُ حِبَّانَ فِي صَحِيحِهِ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر کی نماز ادا کی ، پھر آپ گھر تشریف لے آئے ، آپ نے دو رکعات ادا کیں ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ نے ایک ایسی نماز ادا کی ہے ، جو آپ پہلے ادا نہیں کرتے تھے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میرے پاس کچھ مال آ گیا تھا ، تو میں ظہر کے بعد والی دو رکعات ادا نہیں کر سکا ، وہ میں نے اب ادا کر لی ہیں ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! جب یہ دونوں رہ گئی تھیں ، تو کیا آپ نے ان کی قضاء ادا کی ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جی نہیں ! : ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں یہ روایت ” صحیح “ میں بھی منقول ہے ، تاہم اس میں یہ الفاظ نہیں ہیں : ” جب یہ دونوں رہ گئی تھیں ، تو کیا آپ نے ان کی قضاء ادا کی ہے ؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جی نہیں ! “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام ابن حبان رحمہ اللہ نے اپنی ” صحیح “ میں نقل کی ہے امام أحمد کے رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ۔