حدیث نمبر: 3340
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلٍ قَالَ : صَلَّى بِنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ صَلَاةَ الْعَصْرِ فَأَرْسَلَ إِلَى مَيْمُونَةَ ثُمَّ أَتْبَعُهُ رَجُلًا آخَرَ فَقَالَتْ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُجَهِّزُ بَعْثًا وَلَمْ يَكُنْ عِنْدَهُ ظَهْرٌ مِنَ الصَّدَقَةِ فَجَلَسَ يَقْسِمُ بَيْنَهُمْ فَحَبَسُوهُ حَتَّى أَرْهَقُوا الْعَصْرَ ، وَكَانَ يُصَلِّي قَبْلَ الْعَصْرِ رَكْعَتَيْنِ وَمَا شَاءَ اللَّهُ ، فَصَلَّى الْعَصْرَ ثُمَّ رَجَعَ فَصَلَّى مَا كَانَ يُصَلِّي قَبْلَهَا ، وَكَانَ إِذَا صَلَّى الصَّلَاةَ أَوْ فَعَلَ شَيْئًا أَحَبَّ أَنْ يُدَاوِمَ عَلَيْهِ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ حَنْظَلَةُ السَّدُوسِيُّ ، ضَعَّفَهُ أَحْمَدُ وَابْنُ مَعِينٍ ، وَوَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ . ¤
محمد محی الدین

عبداللہ بن حارث بن نوفل بیان کرتے ہیں : سیدنا معاویہ بن ابوسفیان رضی اللہ عنہ نے ہمیں عصر کی نماز پڑھائی ، پھر انہوں نے سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کی طرف پیغام بھیجا ، پھر ایک اور شخص اس کے پیچھے بھیجا ، سیدہ میمونہ نے بتایا : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک مہم کو روانہ کرنے والے تھے ، آپ کے پاس صدقے کے اونٹ اتنے نہیں تھے ( کہ اُن کو روانہ کیا جا سکتا ) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرما ہوئے اور ان لوگوں کے درمیان تقسیم کرنے لگے ، اس وجہ سے آپ ( ظہر کے بعد کے نوافل یا سنتیں ) ادا نہیں کر پائے ، یہاں تک کہ عصر کا وقت ہو گیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عصر سے پہلے دو رکعات ادا کرتے تھے ، اور جو اللہ کو منظور ہوتا تھا ، وہ ادا کرتے تھے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر کی نماز ادا کی ، پھر آپ واپس تشریف لائے اور وہ سنتیں ادا کیں ، جو آپ اُس سے پہلے ادا کیا کرتے تھے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب بھی کوئی نماز ادا کرتے تھے ، اور جب بھی کوئی کام کرتے تھے ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات پسند تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے باقاعدگی سے کریں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حنظلہ سدوسی ہے ، اسے امام أحمد اور یحیی بن معین نے ضعیف قرار دیا ہے ، ابن حبان نے اسے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3340
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف