مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
أبواب العيدين— عیدین سے متعلق ابواب
بَابُ الْخُرُوجِ إِلَى الْجَبَّانِ فِي الْعِيدِ 3256 عَنْ عَلِيٍّ قَالَ : الْخُرُوجُ إِلَى الْجَبَّانِ فِي الْعِيدَيْنِ مِنَ السُّنَّةِ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ الْحَارِثُ وَهُوَ ضَعِيفٌ . باب: عید کے لئے کھلی جگہ پر جانا
وَعَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ : لَمَّا تُوُفِّيَ إِبْرَاهِيمُ كَسَفَتِ الشَّمْسُ فَقَالَ النَّاسُ : كَسَفَتِ الشَّمْسُ لِمَوْتِ إِبْرَاهِيمَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ لَا يَنْكَسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَيَاتِهِ فَإِذَا رَأَيْتُمْ ذَلِكَ فَافْزَعُوا إِلَى الصَّلَاةِ " رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَسَعِيدُ بْنُ أَسَدِ بْنِ مُوسَى ذَكَرَهُ ابْنُ حِبَّانَ فِي الثِّقَاتِ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صاحبزادے ) سیدنا ابراہیم رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا ، تو سورج گرہن ہو گیا ، لوگوں نے کہا: سیدنا ابراہیم رضی اللہ عنہ کے انتقال کی وجہ سے سورج گرہن ہوا ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” بے شک سورج اور چاند ، اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں ، یہ کسی کے مرنے یا جینے پر گرہن نہیں ہوتے ہیں ، جب تم انہیں ( گرہن کی حالت میں ) دیکھو ، تو نماز کی طرف جاؤ ! “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، سعید بن اسد بن موسیٰ نامی راوی کا ذکر امام ابن حبان رحمہ اللہ نے کتاب ” الثقات “ میں کیا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔