مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
أبواب العيدين— عیدین سے متعلق ابواب
بَابُ الْخُرُوجِ إِلَى الْجَبَّانِ فِي الْعِيدِ 3256 عَنْ عَلِيٍّ قَالَ : الْخُرُوجُ إِلَى الْجَبَّانِ فِي الْعِيدَيْنِ مِنَ السُّنَّةِ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ الْحَارِثُ وَهُوَ ضَعِيفٌ . باب: عید کے لئے کھلی جگہ پر جانا
وَعَنْ ثَعْلَبَةَ بْنِ عَبَّادٍ الْعَبْدِيِّ مِنْ - أَهْلِ الْبَصْرَةِ - قَالَ : شَهِدْتُ يَوْمًا خُطْبَةً لِسَمُرَةَ بْنِ جُنْدَبٍ فَذَكَرَ فِي خُطْبَتِهِ حَدِيثًا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : بَيْنَا أَنَا وَغُلَامٌ مِنَ الْأَنْصَارِ نَرْمِي عَرْضَيْنِ لَنَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَتَّى إِذَا كَانَتِ الشَّمْسُ قِيدَ رُمْحَيْنِ أَوْ ثَلَاثَةٍ فِي عَيْنِ النَّاظِرِ اسْوَدَّتْ حَتَّى أَضَاءَتْ كَأَنَّهَا مُؤْمَةٌ قَالَ : [ فَقَالَ ] أَحَدُنَا لِصَاحِبِهِ : انْطَلِقْ بِنَا إِلَى الْمَسْجِدِ فَوَاللَّهِ لَيُحْدِثَنَّ شَأْنُ هَذِهِ الشَّمْسِ لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي أُمَّتِهِ حَدَثًا قَالَ : فَدَفَعْنَا إِلَى الْمَسْجِدِ فَإِذَا هُوَ بَارِزٌ قَالَ : وَوَافَقْنَا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حِينَ خَرَجَ إِلَى النَّاسِ ، فَاسْتَقْدَمَ فَقَامَ بِنَا كَأَطْوَلِ مَا قَامَ بِنَا فِي صَلَاةٍ قَطُّ لَا نَسْمَعُ لَهُ صَوْتًا ثُمَّ سَجَدَ كَأَطْوَلِ مَا سَجَدَ بِنَا فِي صَلَاةٍ قَطُّ لَا نَسْمَعُ لَهُ صَوْتًا ثُمَّ فَعَلَ فِي الرَّكْعَةِ الثَّانِيَةِ مِثْلَ ذَلِكَ فَوَافَقَ تَجَلِّي الشَّمْسِ جُلُوسَهُ فِي الرَّكْعَةِ الثَّانِيَةِ قَالَ زُهَيْرٌ : حَسِبْتُهُ قَالَ : فَسَلَّمَ فَحَمِدَ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - وَأَثْنَى عَلَيْهِ وَشَهِدَ أَنَّهُ عَبْدُ اللَّهِ وَرَسُولُهُ ثُمَّ قَالَ : " أَيُّهَا النَّاسُ أَنْشُدُكُمْ بِاللَّهِ إِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُونَ أَنِّي قَصَّرْتُ عَنْ شَيْءٍ مِنْ تَبْلِيغِ رِسَالَاتِ رَبِّي - عَزَّ وَجَلَّ - لَمَا أَخْبَرْتُمُونِي ذَاكَ ؟ ( فَبَلَّغْتُ رِسَالَاتِ رَبِّي كَمَا يَنْبَغِي لَهَا أَنْ تُبَلَّغَ ، وَإِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُونَ أَنِّي بَلَّغْتُ رِسَالَاتِ رَبِّي لَمَا أَخْبَرْتُمُونِي ذَاكَ ؟ ) قَالَ : فَقَامَ رِجَالٌ فَقَالُوا : نَشْهَدُ أَنَّكَ قَدْ بَلَّغْتَ رِسَالَاتِ رَبِّكَ وَنَصَحْتَ لِأُمَّتِكَ وَقَضَيْتَ الَّذِي عَلَيْكَ ( ثُمَّ سَكَتُوا ) ثُمَّ قَالَ : " أَمَّا بَعْدُ فَإِنَّ رِجَالًا يَزْعُمُونَ أَنَّ كُسُوفَ هَذِهِ الشَّمْسِ وَكُسُوفَ هَذَا الْقَمَرِ وَزَوَالَ هَذِهِ النُّجُومِ عَنْ مَطَالِعِهَا لِمَوْتِ رِجَالٍ عُظَمَاءَ مِنْ أَهْلِ الْأَرْضِ وَإِنَّهُمْ قَدْ كَذَبُوا ، وَلَكِنَّهَا آيَاتٌ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - يَعْتَبِرُ بِهَا عِبَادُهُ فَيَنْظُرُ مَنْ يُحْدِثُ لَهُ مِنْهُمْ تَوْبَةً وَإِنِّي وَاللَّهِ لَقَدْ رَأَيْتُ مُنْذُ قُمْتُ أُصَلِّي مَا أَنْتُمْ لَاقُوهُ مِنْ أَمْرِ دُنْيَاكُمْ وَآخِرَتِكُمْ ، وَإِنَّهُ وَاللَّهِ لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَخْرُجَ ثَلَاثُونَ كَذَّابًا آخِرُهُمُ الْأَعْوَرُ الدَّجَّالُ مَمْسُوحُ الْعَيْنِ الْيُسْرَى كَأَنَّهَا عَيْنُ أَبِي يَحْيَى - لِشَيْخٍ حِينَئِذٍ مِنَ الْأَنْصَارِ بَيْنَهُ وَبَيْنَ حُجْرَةِ عَائِشَةَ - وَإِنَّهُ مَتَى مَا يَخْرُجُ فَإِنَّهُ سَوْفَ يَزْعُمُ أَنَّهُ اللَّهُ فَمَنْ آمَنَ بِهِ وَصَدَّقَهُ وَاتَّبَعَهُ لَمْ يَنْفَعْهُ صَالِحٌ مِنْ عَمَلِهِ سَلَفَ ، وَمَنْ كَفَرَ بِهِ وَكَذَّبَهُ لَمْ يُعَاقَبْ بِشَيْءٍ مِنْ عَمَلِهِ - وَقَالَ حَسَنٌ : بِشَيْءٍ مِنْ عَمَلِهِ سَلَفَ - وَإِنَّهُ سَيَظْهَرُ - أَوْ قَالَ : سَوْفَ يَظْهَرُ - عَلَى الْأَرْضِ كُلِّهَا إِلَّا الْحَرَمَ وَبَيْتَ الْمَقْدِسِ ، وَإِنَّهُ يَحْضُرُ الْمُؤْمِنُونَ فِي بَيْتِ الْمَقْدِسِ فَيُزَلْزَلُوا زِلْزَالًا شَدِيدًا ثُمَّ يُهْلِكُهُ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى حَتَّى أَنَّ جَذْمَ الْحَائِطِ - أَوْ قَالَ : أَصْلَ الْحَائِطَ - قَالَ حَسَنٌ الْأَشْيَبُ : وَأَصْلَ الشَّجَرَةِ لَتُنَادِي - أَوْ قَالَ : تَقُولُ : - يَا مُؤْمِنُ - أَوْ قَالَ : يَا مُسْلِمُ - هَذَا يَهُودِيٌّ - أَوْ قَالَ هَذَا كَافِرٌ - تَعَالَ فَاقْتُلْهُ قَالَ : وَلَنْ يَكُونَ ذَلِكَ كَذَلِكَ حَتَّى تَرَوْا أُمُورًا يَتَفَاقَمُ شَأْنُهَا فِي أَنْفُسِكُمْ وَتَسْأَلُونَ بَيْنَكُمْ هَلْ كَانَ نَبِيُّكُمْ ذَكَرَ لَكُمْ مِنْهَا ذِكْرًا ؟ وَحَتَّى تَزُولَ جِبَالٌ عَنْ مَرَاتِبِهَا ثُمَّ عَلَى أَثَرِ ذَلِكَ الْقَبْضُ " قَالَ : ثُمَّ شَهِدَ خُطْبَةً لِسَمُرَةَ ذَكَرَ فِيهَا هَذَا الْحَدِيثَ مَا قَدَّمَ كَلِمَةً وَلَا أَخَّرَهَا عَنْ مَوْضِعِهَا قُلْتُ : فِي السُّنَنِ بَعْضُهُ فِي الْكُسُوفِ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْطَبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ إِلَّا أَنَّهُ زَادَ : " وَأَنَّهُ سَيَظْهَرُ عَلَى الْأَرْضِ كُلِّهَا إِلَّا الْحَرَمَ وَبَيْتَ الْمَقْدِسِ " وَقَالَ أَيْضًا : قَالَ الْأَسْوَدُ بْنُ قَيْسٍ : وَحَسِبْتُ أَنَّهُ قَالَ : " فَيُصْبِحُ فِيهِمْ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَيَهْزِمُهُ اللَّهُ وَجُنُودَهُ " ، وَالْبَاقِي بِنَحْوِهِ قَالَ التِّرْمِذِيُّ فِيمَا رَوَاهُ مِنْهُ : حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌثعلبہ بن عباد عبدی ، جن کا تعلق اہل بصرہ سے ہے ، وہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ میں سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ کے خطبے میں موجود تھا ، انہوں نے اس خطبے کے دوران نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے ایک حدیث ذکر کی : انہوں نے بیان کیا : ” نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ، ایک مرتبہ میں اور انصار سے تعلق رکھنے والا ایک لڑکا ، نشانہ بازی کر رہے تھے ، یہاں تک کہ سورج دیکھنے والے کی نظر میں دو نیزوں ، یا تین نیزوں جتنا ہو گیا ، وہ سیاہ ہو گیا تھا اور ” مومتہ “ ( یہاں مسند أحمد میں لفظ ” تنومۃ “ تحریر ہے اور اس سے مراد ایک مخصوص نباتات ہے ) کی طرح لگتا تھا انہوں نے یہ بات بیان کی ہم دونوں میں سے ایک نے دوسرے سے کہا: کہ ہم مسجد کی طرف چلتے ہیں ، اللہ کی قسم ! سورج کے اس معاملے کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی امت میں ضرور کوئی نئی بات پیش آئے گی ، سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم لوگ مسجد کی طرف گئے ، تو ہم نے یہ بات پائی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کی طرف تشریف لائے ہیں ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم آگئے بڑھے آپ نے ہمیں نماز پڑھائی ، جو طویل ترین نماز تھی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پہلے اپنی طویل نماز کبھی نہیں پڑھائی تھی ہمیں آپ کی آواز سنائی نہیں دی ، پھر آپ سجدے میں چلے گئے اور وہ سب سے طویل سجدہ تھا ، جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی بھی نماز میں ہمیں کروایا ہو ، ہمیں آپ کی آواز سنائی نہیں دی تھی ، پھر آپ نے دوسری رکعت میں بھی اسی طرح کیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب دوسری رکعت کے بعد بیٹھے ہوئے تھے ، تو اسی دوران سورج روشن ہو گیا ، زہیر نامی راوی بیان کرتے ہیں : میرا خیال ہے انہوں نے یہ بھی کہا: تھا : پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیر دیا ، آپ نے اللہ تعالی کی حمد و ثناء بیان کی ، اور اس بات کی گواہی دی کہ آپ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں ، پھر آپ نے ارشاد فرمایا : ” اے لوگو ! میں تمہیں اللہ کا واسطہ دے کر یہ دریافت کرتا ہوں : کیا تم لوگ یہ بات جانتے ہو کہ میں نے اپنے پروردگار کے پیغام کے تبلیغ کے حوالے سے کوئی کوتاہی کی ہے ، تو تم مجھے بتاؤ کہ وہ کیا ہے ؟ میں نے اپنے پروردگار کا پیغام اسی طرح تبلیغ کر دیا ہے ، جس طرح اس کی تبلیغ کی جانی چاہیے تھی ، اور اگر تم لوگ یہ بات جانتے ہو کہ میں نے اپنے پروردگار کے پیغام کی تبلیغ کر دی ہے ، تو تم مجھے اس بارے میں بتا دو ! “ راوی بیان کرتے ہیں : تو کچھ لوگ کھڑے ہوئے اور انہوں نے یہ بات کہی : ہم اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ آپ نے اپنے پروردگار کے پیغام کی تبلیغ کر دی ، اپنی امت کی خیرخواہی کی ، اپنے ذمہ لازم فرض کو ادا کیا ، پھر وہ لوگ خاموش ہو گئے ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” امابعد ! کچھ لوگ یہ سمجھتے ہیں اس سورج کا گرہن ہونا یا چاند کا گرہن ہونا ، یا ستاروں کا اپنی جگہ سے زائل ہو جانا ، زمین پر موجود بڑے لوگوں کے مرنے کی وجہ سے ہوتا ہے ، ایسے لوگ غلط کہتے ہیں : بلکہ ایسی چیزیں ، اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے کچھ نشانیاں ہیں ، جن کے ذریعے اللہ تعالی کے بندے عبرت حاصل کرتے ہیں ، اور اللہ تعالی یہ بات دیکھتا ہے کہ ان بندوں میں سے کون توبہ کرتا ہے ؟ اللہ کی قسم ! جب میں کھڑا ہوا یہاں نماز ادا کر رہا تھا ، تو میں نے ہر اس چیز کو دیکھ لیا جس کا سامنا تم لوگ دنیا میں کرو گے اور آخرت میں کرو گے ، اللہ کی قسم ! قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی ، جب تک تیس کذاب نہیں نکلیں گے ، جن میں سے آخری ” کانا دجال ہو گا ، جس کی بائیں آنکھ پر پھیرا گیا ہو گا ، وہ ابویحی کی آنکھ کی مانند ہو گئی ، یہ بات آپ نے ایک عمر رسیدہ شخص کے بارے میں کہی ، جس کا تعلق انصار سے تھا ، اور وہ اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرے کے درمیان موجود تھا ، ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ) جب وہ نکلے گا ، تو وہ یہ کہے گا : کہ وہ اللہ تعالیٰ ہے ، جو شخص اس پر ایمان لائے گا ، اس کی تصدیق کرے گا ، اس کی پیروی کرے گا ، اس کا پہلے والا کوئی عمل اسے فائدہ نہیں دے گا ، جو شخص اس کا کفر کرے گا ، اُسے جھٹلائے گا ، اس کے کسی عمل پر اس کا مواخذہ نہیں ہو گا ، یہاں پر حسن نامی راوی نے ایک لفظ مختلف نقل کیا ہے : وہ عنقریب ظاہر ہو گا ( یہاں ایک لفظ کے بارے میں ، راوی کو شک ہے ) وہ پوری روئے زمین پر غلبہ حاصل کر لے گا ، صرف حرم اور بیت المقدس پر حاصل نہیں کر سکے گا ، اُس وقت اہل ایمان بیت المقدس میں اکھٹے ہوں گے ، وہاں ایک زبردست زلزلہ آئے گا ، پھر اللہ تعالیٰ اس ( رجال ) کو ہلاک کر دے گا ، یہاں تک کہ ایک دیوار کی جڑ ( یہاں پر ایک راوی نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ) درخت کی جڑ ، پکار کر یہ کہے گی : اے مؤمن ! ( راوی کو شک ہے ، شاید یہ الفاظ ہیں : ) اے مسلمان ! یہ یہودی ہے ( راوی کو شک ہے ، شاید یہ الفاظ ہیں : ) یہ کافر ہے ، تم آگے آؤ ، اور اسے قتل کر دو ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ایسا اس وقت تک نہیں ہو گا ، جب تک تم کچھ اور امور نہیں دیکھو گے ، جن کے بارے میں تمہیں اپنے ذہن میں الجھن ہو گی ، اور تم ایک دوسرے سے اس کے بارے میں دریافت کرو گے کہ کیا تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان میں سے کسی چیز کا ذکر کیا تھا ؟ اور یہاں تک کہ پہاڑ اپنی جگہ سے ہل جائیں گے ، پھر اُس کے بعد قبض کیا جانا ہو گا “ ۔ راوی بیان کرتے ہیں : اس کے بعد وہ پھر ایک مرتبہ سمرہ رضی اللہ عنہ کے خطبے میں شریک ہوئے ، جس میں انہوں نے یہ بات بیان کی تو انہوں نے اس میں نہ تو کوئی بات آگے کی ، اور نہ ہی کوئی کلام اپنی جگہ سے پیچھے کیا ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ” سن “ میں اس کا کچھ حصہ مذکور ہے ، جو سورج گرہن کے بارے میں ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں : ” عنقریب وہ حرم اور بیت المقدس کے علاوہ پوری روئے زمین پر غلبہ حاصل کر لے گا “ ۔ انہوں نے یہ بات بھی بیان کی ہے ، اسود بن قیس بیان کرتے ہیں : میرا خیال ہے انہوں نے یہ بات کہی تھی : ” تو اُن لوگوں کے درمیان سیدنا عیسیٰ بن مریم علیہ السلام تشریف لائیں گے ، تو وہ دجال اور اس کے لشکر کو ختم کر دیں گے “ ۔ اس کے بعد باقی حدیث حسب سابق ہے ، امام ترمذی نے اس میں سے جو حصہ نقل کیا ہے ، اس کے بارے میں یہ کہا: ہے : یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔