حدیث نمبر: 3226
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : كَانَ دُعَاءُ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي الْعِيدَيْنِ : " اللَّهُمَّ إِنَّا نَسْأَلُكَ عِيشَةً تَقِيَّةً وَمِيتَةً سَوِيَّةً وَمَرَدًّا غَيْرَ مُخْزٍ وَلَا فَاضِحٍ ، اللَّهُمَّ لَا تُهْلِكْنَا فَجْأَةً وَلَا تَأْخُذْنَا بَغْتَةً وَلَا تُعْجِلْنَا عَنْ حَقٍّ وَلَا وَصِيَّةٍ ، اللَّهُمَّ إِنَّا نَسْأَلُكَ الْعَفَافَ وَالْغِنَى وَالتُّقَى وَالْهُدَى وَحُسْنَ عَاقِبَةِ الْآخِرَةِ وَالدُّنْيَا ، وَنَعُوذُ بِكَ مِنَ الشَّكِّ وَالشِّقَاقِ وَالرِّيَاءِ وَالسُّمْعَةِ فِي دِينِكَ ، يَا مُقَلِّبَ الْقُلُوبِ لَا تُزِغْ قُلُوبَنَا بَعْدَ إِذْ هَدَيْتَنَا وَهَبْ لَنَا مِنْ لَدُنْكَ رَحْمَةً إِنَّكَ أَنْتَ الْوَهَّابُ " رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ نَهْشَلُ بْنُ سَعِيدٍ وَهُوَ مَتْرُوكٌ
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عیدین کے موقع پر یہ دعا کرتے تھے : ” اے اللہ ! بے شک ہم تجھ سے یہ سوال کرتے ہیں : کہ ایسی زندگی ہو ، جو محفوظ ہو اور ایسی موت ہو ، جو ٹھیک ہو ، اور ایسی واپسی جس میں رسوائی نہ ہو اور شرمندگی نہ ہو ، اے اللہ ! تو ہمیں اچانک ہلاکت کا شکار نہ کرنا ، اور اچانک ہماری پکڑ نہ کرنا ، اور ہمیں اتنی جلدی موت نہ دینا ، کہ کوئی حق رہ گیا ہو ، یا وصیت نہ کی جا سکے ، اے اللہ ! بے شک ہم تجھ سے ۔ پاکدامنی کا ، خوشحالی ، پرہیزگاری ، ہدایت کا ، دنیا اور آخرت میں اچھے انجام کا سوال کرتے ہیں ، اور شک سے ، اختلاف سے ، اور تیرے دین کے بارے میں ریاکاری اور دکھاوے سے تیری پناہ مانگتے ہیں ، اے دلوں کو پھیرنے والے ! تو ہمیں ہدایت نصیب کرنے کے بعد ، ہمارے دلوں کو ٹیڑھا نہ کر دینا ، اور ہمیں اپنے فضل سے رحمت عطا کرنا ، بے شک تو بہت زیادہ عطا کرنے والا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی نہشل مستقل بن سعید ہے ، اور وہ متروک ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3226
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف جداً