حدیث نمبر: 3225
عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَوْسٍ الْأَنْصَارِيِّ عَنْ أَبِيهِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِذَا كَانَ يَوْمُ عِيدِ الْفِطْرِ وَقَفَتِ الْمَلَائِكَةُ عَلَى أَبْوَابِ الطَّرِيقِ فَنَادَوُا : اغْدُوا يَا مَعْشَرَ الْمُسْلِمِينَ إِلَى رَبٍّ كَرِيمٍ يَمُنُّ بِالْخَيْرِ ثُمَّ يُثِيبُ عَلَيْهِ الْجَزِيلَ ، لَقَدْ أُمِرْتُمْ بِقِيَامِ اللَّيْلِ فَقُمْتُمْ ، وَأُمِرْتُمْ بِصِيَامِ النَّهَارِ فَصُمْتُمْ وَأَطَعْتُمْ رَبَّكُمْ فَاقْبِضُوا جَوَائِزَكُمْ ، فَإِذَا صَلَّوْا نَادَى مُنَادٍ : أَلَا إِنَّ رَبَّكُمْ قَدْ غَفَرَ لَكُمْ فَارْجِعُوا رَاشِدِينَ إِلَى رِحَالِكُمْ ، فَهُوَ يَوْمُ الْجَائِزَةِ وَيُسَمَّى ذَلِكَ الْيَوْمُ فِي السَّمَاءِ يَوْمَ الْجَائِزَةِ " - وَفِي رِوَايَةٍ : " رَبٍّ رَحِيمٍ " بَدَلَ " رَبٍّ كَرِيمٍ " - فَقَالَ : " قَدْ غَفَرْتُ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ كُلَّهَا " رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ جَابِرٌ الْجُعْفِيُّ وَثَّقَهُ الثَّوْرِيُّ وَرَوَى عَنْهُ هُوَ وَشُعْبَةُ وَضَعَّفَهُ النَّاسُ وَهُوَ مَتْرُوكٌ
محمد محی الدین

سعید بن اوس انصاری ، اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جب عیدالفطر کا دن ہوتا ہے ، تو فرشتے راستوں میں ٹھہر جاتے ہیں اور وہ بلند آواز میں پکار کر کہتے ہیں : اے مسلمانوں کے گروہ ! اپنے معزز پروردگار کی طرف جاؤ ! جو بھلائی کا احسان کر رہا ہے ، اور اس کی جزا عطا کرے گا ، تمہیں رات کے وقت نوافل ادا کرنے کا حکم دیا گیا ، تم نے وہ ادا کیے ، تمہیں دن کے وقت روزے رکھنے کا حکم دیا گیا ، تم نے روزہ رکھا اور اپنے پروردگار کی اطاعت کی ، تو اب اپنا بدلہ وصول کر لو ! جب لوگ نماز ادا کر لیتے ہیں ، تو ایک منادی پکار کر یہ کہتا ہے : خبردار ! تمہارے پروردگار نے تمہاری مغفرت کر دی ہے ، تو اب تم ایسی حالت میں اپنے گھروں کو واپس جاؤ کہ تم ہدایت یافتہ ہو ، تو یہ بدلے کا دن ہے ، آسمان میں اس دن کو ” بدلے کا دن “ کہا: گیا ہے “ ۔ ایک روایت میں لفظ ” کریم پروردگار “ کی بجائے ” رحیم پروردگار “ کے الفاظ ہیں ، وہ فرماتا ہے : ” میں نے تم لوگوں کے تمام گناہوں کی مغفرت کر دی ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی جابر جعفی ہے ، جسے سفیان ثوری نے ” ثقہ “ قرار دیا ہے انہوں نے اس سے روایت بھی نقل کی ہے ، اور شعبہ نے بھی نقل کی ہے ، لوگوں نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ، اور وہ متروک ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3225
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف جداً؛ اس روایت کی سند میں جابر الجعفی راوی 'متروک' ہے، جس کی وجہ سے یہ سخت ضعیف ہے۔