حدیث نمبر: 3211
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : مِنَ السُّنَّةِ أَنْ تَطْعَمَ قَبْلَ أَنْ تَخْرُجَ وَلَوْ بِتَمْرَةٍ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ وَلَفْظُهُ : مِنَ السُّنَّةِ أَنْ لَا تَخْرُجَ يَوْمَ الْفِطْرِ حَتَّى تُخْرِجَ الصَّدَقَةَ وَتَطْعَمَ شَيْئًا قَبْلَ أَنْ تَخْرُجَ وَإِسْنَادُ الطَّبَرَانِيِّ حَسَنٌ وَفِي إِسْنَادِ الْبَزَّارِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں : سنت یہ ہے کہ تم ( نماز عید کی ادائیگی کے لیے ) نکلنے سے پہلے کچھ کھا لو ، خواہ ایک کھجور ہی کیوں نہ ہو ۔
یہ روایت امام بزار نے ، اور امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اُن کے الفاظ یہ ہیں : ” سنت یہ ہے کہ تم عیدالفطر کے دن ، اُس وقت تک نہ نکلو ، جب تک تم صدقہ فطر ادا نہیں کر دیتے اور نکلنے سے پہلے کچھ کھا نہیں لیتے “ ۔ امام طبرانی کی سند حسن ہے ، اور امام بزار کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ، جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3211
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن