حدیث نمبر: 3209
عَنْ عَطَاءٍ أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ : إِنِ اسْتَطَعْتُمْ أَنْ لَا يَغْدُوَ أَحَدُكُمْ يَوْمَ الْفِطْرِ حَتَّى يَطْعَمَ فَلْيَفْعَلْ قَالَ : فَلَمْ أَدَعْ أَنْ آكُلَ قَبْلَ أَنْ أَغْدُوَ مُنْذُ سَمِعْتُ ذَلِكَ مِنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، فَآكُلَ مِنْ طَرَفِ الصَّرِيقَةِ الْأَكْلَةَ وَأَشْرَبُ اللَّبَنَ أَوِ الْمَاءَ فَقُلْتُ : عَلَى مَا تَأَوَّلَ هَذَا ؟ قَالَ : سَمِعَهُ أَظُنُّ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " كَانُوا لَا يَخْرُجُونَ حَتَّى يَمْتَدَّ الضُّحَى فَيَقُولُونَ : نَطْعَمُ لِئَلَّا نَعْجَلَ عَنْ صَلَاتِنَا " رَوَاهُ أَحْمَدُ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ وَرَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ . ¤
محمد محی الدین

عطاء بیان کرتے ہیں : انہوں نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے : اگر تم سے ہو سکے ، تو تم عیدالفطر کے دن کچھ کھانے سے پہلے ( نماز عید کی ادائیگی کے لیے ) نہ نکلنا ، عطاء فرماتے ہیں : جب سے میں نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی زبانی یہ بات سنی ہے ، میں نکلنے سے پہلے ضرور کچھ کھا لیتا ہوں ، یہاں تک کہ میں باریک روٹی کا کنارہ کھا لیتا ہوں ، دودھ ، یا پانی پی لیتا ہوں ، میں نے دریافت کیا : اُن کا اس کے ذریعے مقصد کیا تھا ؟ تو انہوں نے بتایا : میرا خیال ہے کہ میں نے انہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہوئے سنا ہے : وہ بیان کرتے ہیں : ” وہ لوگ اس وقت تک نہیں نکلتے تھے ، جب تک دن چڑھ نہیں جاتا تھا اور وہ لوگ یہ کہتے تھے : ہم کچھ کھا لیتے ہیں ، تاکہ ہمیں اپنی نماز کے دوران کوئی پریشانی نہ ہو “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، اسے امام طبرانی نے روایت کیا ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3209
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح