مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الصلاة— نماز کے بارے میں روایات
بَابُ مَا يَفْعَلُ إِذَا صَلَّى الْجُمُعَةَ 3186 عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُسْرٍ الْحَبْرَانِيِّ قَالَ : رَأَيْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ بُسْرٍ صَاحِبَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا صَلَّى الْجُمُعَةَ خَرَجَ فَدَارَ فِي السُّوقِ سَاعَةً ثُمَّ رَجَعَ إِلَى الْمَسْجِدِ فَقِيلَ لَهُ : لِمَ تَفْعَلُ هَذَا ؟ فَقَالَ : رَأَيْتُ سَيِّدَ الْمُسْلِمِينَ يَفْعَلُهُ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَعَبْدُ اللَّهِ الْحِبْرَانِيُّ ضَعَّفَهُ يَحْيَى الْقَطَّانُ وَوَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ . باب: جب آدمی جمعہ ادا کر لے ، تو پھر وہ کیا کرے ؟
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : أَوْصَانِي خَلِيلِي - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِثَلَاثٍ لَا أَدَعُهُنَّ فِي سِفْرٍ وَلَا حَضَرٍ ؛ نَوْمٍ عَلَى وَتْرٍ ، وَصِيَامِ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ ، وَرَكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْجُمُعَةِ ، ثُمَّ إِنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ جَعَلَ بَعْدَ رَكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْجُمُعَةِ رَكْعَتِي الضُّحَى قُلْتُ : هُوَ فِي الصَّحِيحِ خَلَا قَوْلَهُ : وَرَكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْجُمُعَةِ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَسیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میرے خلیل صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے تین باتوں کی تلقین کی تھی : میں سفر یا حضر کے دوران میں انہیں کبھی ترک نہیں کروں گا ، وتر ادا کرنے کے بعد سونا ، ہر مہینے میں تین دن روزے رکھنا ، اور جمعہ کے بعد دو رکعات ادا کرنا ۔ پھر سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے جمعہ کے بعد کی دو رکعات کے بعد چاشت کی دو رکعات بھی شامل کر لیں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت ” صحیح“ میں منقول ہے ، تاہم اس میں یہ الفاظ نہیں ہیں : ” جمعہ کے بعد کی دو رکعات“ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔