مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الصلاة— نماز کے بارے میں روایات
بَابُ مَا يَفْعَلُ إِذَا صَلَّى الْجُمُعَةَ 3186 عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُسْرٍ الْحَبْرَانِيِّ قَالَ : رَأَيْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ بُسْرٍ صَاحِبَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا صَلَّى الْجُمُعَةَ خَرَجَ فَدَارَ فِي السُّوقِ سَاعَةً ثُمَّ رَجَعَ إِلَى الْمَسْجِدِ فَقِيلَ لَهُ : لِمَ تَفْعَلُ هَذَا ؟ فَقَالَ : رَأَيْتُ سَيِّدَ الْمُسْلِمِينَ يَفْعَلُهُ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَعَبْدُ اللَّهِ الْحِبْرَانِيُّ ضَعَّفَهُ يَحْيَى الْقَطَّانُ وَوَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ . باب: جب آدمی جمعہ ادا کر لے ، تو پھر وہ کیا کرے ؟
عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : اجْتَمَعَ عِيدَانِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمُ فِطْرٍ وَجُمُعَةٌ فَصَلَّى بِهِمْ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْعِيدَ ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيْهِمْ بِوَجْهِهِ فَقَالَ : "يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّكُمْ قَدْ أَصَبْتُمْ خَيْرًا وَأَجْرًا وَإِنَّا مُجَمِّعُونَ فَمَنْ أَرَادَ أَنْ يُجَمِّعَ مَعَنَا فَلْيُجَمِّعْ وَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يَرْجِعَ إِلَى أَهْلِهِ فَلْيَرْجِعْ " رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ مِنْ رِوَايَةِ إِسْمَاعِيلَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ التُّرْكِيِّ عَنْ زِيَادِ بْنِ رَاشِدٍ أَبِي مُحَمَّدٍ السَّمَّاكِ وَلَمْ أَجِدْ مَنْ تَرْجَمَهُمَاسیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں دو عیدیں اکٹھی ہو گئیں ، عیدالفطر کا دن جمعہ کے دن تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن لوگوں کو عید کی نماز پڑھائی ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کی طرف رُخ کیا اور ارشاد فرمایا : ” اے لوگو ! تم لوگوں نے بھلائی اور اجر حاصل کر لیا ہے ، ہم جمعہ بھی ادا کریں گے ، جو شخص ہمارے ساتھ جمعہ ادا کرنا چاہے ، وہ جمعہ ادا کر لے اور جو شخص اپنے گھر واپس جانا چاہے ، وہ واپس چلا جائے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں ، اسماعیل بن ابراہیم ترکی کی ، زیاد بن راشد ابومحمد سماک کے حوالے سے نقل کردہ روایت کے طور پر نقل کی ہے ، اور میں نے کسی کو ان دونوں کے حالات بیان کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ۔