مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الصلاة— نماز کے بارے میں روایات
بَابُ الْخُطْبَةِ وَالْقِرَاءَةِ فِيهَا . باب: خطبہ دینا اور اس میں قرأت کرنا
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : جَاءَ ضِمَامُ بْنُ ثَعْلَبَةَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : أَلَا أَرْقِيكَ يَا مُحَمَّدُ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " الْحَمْدُ لِلَّهِ نَحْمَدُهُ وَنَسْتَعِينُهُ، وَنَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ شُرُورِ أَنْفُسِنَا وَ [ مِنْ ] سَيِّئَاتِ أَعْمَالِنَا ، مَنْ يَهْدِهِ اللَّهُ فَلَا مُضِلَّ لَهُ ، وَمَنْ يُضْلِلْ فَلَا هَادِيَ لَهُ ، وَأَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ ، قُلْتُ : فَذَكَرَ الْحَدِيثَ وَيَأْتِي بِطُولِهِ فِي مَنَاقِبِهِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ وَلِابْنِ عَبَّاسٍ حَدِيثٌ فِي قِصَّةِ ضِمَادٍ - بِالدَّالِ - فِي الصَّحِيحِ وَهَذَا بِالْمِيمِ - رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌسیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ضمام بن ثعلبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور بولا: اے سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کیا میں آپ کو دم نہ کروں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” ہر طرح کی حمد اللہ تعالیٰ کے لئے مخصوص ہے ہم اس کی حمد بیان کرتے ہیں ، اور اس سے مدد طلب کرتے ہیں ، اور ہم اپنی ذات کی شر سے اور اپنے اعمال کی برائیوں سے اللہ تعالی کی پناہ مانگتے ہیں جس اللہ تعالی ہدایت نصیب کر دے اسے کوئی گمراہ کرنے والا نہیں ہے ، اور جسے وہ گمراہ رہنے دے اسے کوئی ہدایت دینے والا نہیں ہے ، اور میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، اور سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں “ ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس کے بعد انہوں نے یہ حدیث ذکر کی ہے ، جو پوری حدیث مناقب سے متعلق باب میں آئے گی اگر اللہ نے چاہا سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے حوالے سے منقول ایک حدیث ضماد کے واقعہ کے بارے میں بھی ہے ، جو ” صحیح “ میں مذکور ہے ، لیکن یہاں اس شخص کا نام ” م “ کے ساتھ یعنی ضمام ذکر ہوا ہے
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔