مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الصلاة— نماز کے بارے میں روایات
بَابُ الْخُطْبَةِ وَالْقِرَاءَةِ فِيهَا . باب: خطبہ دینا اور اس میں قرأت کرنا
وَعَنْ عَلِيٍّ أَوْ عَنِ الزُّبَيْرِ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَخْطُبُنَا فَيُذَكِّرُنَا بِأَيَّامِ اللَّهِ حَتَّى يُعْرَفَ ذَلِكَ فِي وَجْهِهِ وَكَأَنَّهُ نَذِيرُ قَوْمٍ يُصَبِّحُهُمُ الْأَمْرَ غَدْوَةً ، وَكَانَ إِذَا كَانَ حَدِيثَ عَهْدٍ بِجِبْرِيلَ لَمْ يَتَبَسَّمْ ضَاحِكًا حَتَّى يَرْتَفِعَ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ بِنَحْوِهِ وَأَبُو يَعْلَى عَنِ الزُّبَيْرِ وَحْدَهُ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤سیدنا علی رضی اللہ عنہ یا شاید سیدنا زبیر بیان کرتے ہیں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں خطبہ دے رہے تھے ، اور ہمیں وعظ و نصیحت کر رہے تھے یہاں تک کہ اس کے اثرات آپ کے چہرے سے محسوس ہو رہے تھے یوں لگ رہا تھا جیسے آپ کسی قوم کو ڈرا رہے ہیں جنہیں کل جنگ کا سامنا کرنا پڑے گا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی کچھ دیر پہلے سیدنا جبرائیل سے ملاقات ہوئی تھی آپ ہنسے نہیں تھے یہاں تک کہ وہ اوپر چلے گئے ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں اور اوسط میں اس کی مانند نقل کی ہے امام ابویعلیٰ نے اسے صرف سیدنا زبیر کے حوالے سے نقل کیا ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔