حدیث نمبر: 3133
وَعَنْ أَبِي قَيْسٍ قَالَ : دَخَلَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ يَوْمَ الْجُمُعَةِ الْمَسْجِدَ وَعَلَيْهِ ثِيَابٌ بِيضٌ نِقَاءٌ حِسَانٌ فَنَظَرَ إِلَى مَكَانٍ فِيهِ سَعَةٌ ، فَجَلَسَ فِيهِ وَلَمْ يَتَخَطَّ أَحَدًا ، وَخَرَجَ الْإِمَامُ فَإِذَا رَجُلَانِ يَتَكَلَّمَانِ ، فَأَخَذَ مِنَ الْحَصَى فَرَمَاهُمَا فَنَظَرَا إِلَيْهِ فَسَكَتَا فَلَمَّا نَزَلَ الْإِمَامُ قَالَ : أَلَمْ تَعْلَمَا أَنَّكُمَا فِي صَلَاةٍ ؟ ! . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَجِدْ لَهُ تَرْجَمَةً . ¤
محمد محی الدین

ابوقیس بیان کرتے ہیں : سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ جمعہ کے دن مسجد میں داخل ہوئے انہوں نے سفید صاف ستھرے کپڑے پہنے ہوئے تھے انہوں نے ایک جگہ کی طرف دیکھا جہاں گنجائش تھی تو وہاں بیٹھ گئے انہوں نے کسی کی گردن کو نہیں پھلانگا پھر امام آیا تو اس دوران دو آدمی بات چیت کر رہے تھے انہوں نے کنکریاں پکڑیں اور ان دونوں کو ماریں ان دونوں نے سیدنا عبداللہ تعالیٰ کی طرف دیکھا اور پھر وہ دونوں خاموش ہو گئے جب امام منبر سے نیچے آیا تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : کیا تم دونوں یہ بات نہیں جانتے ہو کہ تم دونوں نماز کی حالت میں تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایسا راوی ہے ، جس کے حالات میں نے نہیں پائے ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 3133
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف