مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الصلاة— نماز کے بارے میں روایات
بَابُ الْإِنْصَاتِ وَالْإِمَامُ يَخْطُبُ . باب: امام کے خطبے کے دوران خاموش رہنا
حدیث نمبر: 3132
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : يُكْرَهُ الْكَلَامُ فِي أَرْبَعَةِ مَوَاطِنَ : يَوْمِ الْجُمُعَةِ وَيَوْمِ الْفِطْرِ وَيَوْمِ الْأَضْحَى وَفِي الِاسْتِسْقَاءِ [ إِذَا صَعِدَ الْإِمَامُ الْمِنْبَرَ ] ، فَتَكَلَّمَ حَتَّى نَزَلَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ ضَعَّفَهُ الْبُخَارِيُّ وَالنَّسَائِيُّ وَالتِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَعِينٍ وَوَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ . ¤محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں چار مواقع پر کلام کو مکروہ قرار دیا گیا ہے جمعہ کے دن عیدالفطر کے دن عیدالاضحی کے دن اور نماز استسقاء میں جب امام منبر پر بیٹھ چکا ہو اور کلام شروع کر چکا ہو جب تک وہ منبر سے نیچے نہیں آتا
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن سلمہ بن کہیل ہے ، اسے امام بخاری رحمہ اللہ امام نسائی رحمہ اللہ امام ترمذی اور یحیی بن معین نے ضعیف قرار دیا ہے ۔ ابن حبان نے اسے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ۔