حدیث نمبر: 3101
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ : كَانَ لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خَشَبَةٌ يَقُومُ إِلَيْهَا فَجَاءَ رَجُلٌ فَأَمَرَهُ أَنْ يَجْعَلَ لَهُ كُرْسِيًّا فَقَامَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَخْطُبُ عَلَيْهِ فَحَنَّتِ الْخَشَبَةُ الَّتِي كَانَ يَقُومُ عِنْدَهَا حَتَّى سَمِعَ أَهْلُ الْمَسْجِدِ حَنِينَهَا قَالَ : فَقُلْتُ لِلْعَوْفِيِّ : أَنْتَ سَمِعْتَهُ ؟ قَالَ : نَعَمْ سَمِعْتُهُ لَعَمْرِي ، فَجَاءَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَتَّى احْتَضَنَهَا فَسَكَنَتْ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ مِنْ رِوَايَةِ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي لَيْلَى عَنْ عَطِيَّةَ وَكِلَاهُمَا مُخْتَلَفٌ فِي الِاحْتِجَاجِ بِهِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک لکڑی تھی جس کے ساتھ ٹیک لگا کر آپ کھڑے ہوتے تھے ایک شخص آیا آپ نے اسے حکم دیا کہ وہ آپ کے لئے کرسی بنا دے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر خطبہ دینے کے لئے کھڑے ہوئے تو لکڑی کا وہ ٹکڑا رونے لگا جس کے پاس آپ پہلے کھڑے ہوا کرتے تھے یہاں تک کہ اہل مسجد نے اس کے رونے کی آواز سنی ۔ راوی بیان کرتے ہیں : میں نے عوفی سے دریافت کیا : کیا تم نے خود یہ روایت ان کی زبانی سنی ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : مجھے اپنی زندگی کی قسم ہے میں نے ان کی زبانی یہ روایت سنی ہے : پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے یہاں تک کہ آپ نے اسے اپنے ساتھ لپٹا لیا یہاں تک کہ وہ پرسکون ہو گیا ۔
یہ روایت امام بزار نے محمد بن ابولیلی کے حوالے سے عطیہ سے نقل کی ہے ، اور ان دونوں سے استدلال کرنے کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 3101
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف