حدیث نمبر: 3079
عَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " تَقْعُدُ الْمَلَائِكَةُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ عَلَى أَبْوَابِ الْمَسَاجِدِ مَعَهُمُ الصُّحُفُ يَكْتُبُونَ النَّاسَ فَإِذَا خَرَجَ الْإِمَامُ طُوِيَتِ الصُّحُفُ"، قُلْتُ : يَا أَبَا أُمَامَةَ لَيْسَ لِمَنْ جَاءَ بَعْدَ خُرُوجِ الْإِمَامِ جُمُعَةٌ ؟ قَالَ : بَلَى وَلَكِنْ لَيْسَ مِمَّنْ يُكْتَبُ فِي الصُّحُفِ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَفِيهِ مُبَارَكُ بْنُ فَضَالَةَ ، وَقَدْ وَثَّقَهُ جَمَاعَةٌ وَضَعَّفَهُ آخَرُونَ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” جمعہ کے دن فرشتے مساجد کے دروازوں پر بیٹھ جاتے ہیں ان کے پاس صحیفے ہوتے ہیں وہ لوگوں کے نام نوٹ کرتے ہیں جب امام آ جاتا ہے ، تو صحیفے لپیٹ دیے جاتے ہیں“ ۔ راوی بیان کرتے ہیں : میں نے کہا: اے سیدنا ابوامامہ ! جو شخص امام کے آنے کے بعد آتا ہے کیا اس کا جعہ نہیں ہوتا ہے ؟ انہوں نے فرمایا : ہوتا ہے ، لیکن یہ ان افراد میں شامل نہیں ہوتا جن کے نام صحیفے میں نوٹ کیے جاتے ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی مبارک بن فضالہ ہے ، جسے ایک جماعت نے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ، اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 3079
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن