مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الصلاة— نماز کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي السَّاعَةِ الَّتِي فِي يَوْمِ الْجُمُعَةِ . باب: اس گھڑی کا بیان جو جمعہ کے دن میں ہوتی ہے
وَعَنْ أَبِي سَلَمَةَ قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ وَأَبَا سَعِيدٍ يَذْكُرَانِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِنَّ فِي الْجُمُعَةِ سَاعَةً لَا يُوَافِقُهَا عَبْدٌ وَهُوَ يُصَلِّي يَسْأَلُ اللَّهَ فِيهَا شَيْئًا إِلَّا أَعْطَاهُ إِيَّاهُ " قَالَ : وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلَامٍ يَذْكُرُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : نَعَمْ ، هِيَ آخِرُ سَاعَةٍ قُلْتُ : إِنَّمَا قَالَ وَهُوَ يُصَلِّي وَلَيْسَتْ تِلْكَ سَاعَةَ صَلَاةٍ ، قَالَ : أَمَا سَمِعْتَ - أَوْ أَمَا بَلَغَكَ - أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَنِ انْتَظَرَ الصَّلَاةَ فَهُوَ فِي صَلَاةٍ " . ¤ قُلْتُ : حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ فِي الصَّحِيحِ وَحَدِيثُ ابْنِ سَلَامٍ فِي الصَّحِيحِ وَلَكِنَّهُ مَوْقُوفٌ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤ابوسلمہ بیان کرتے ہیں : میں نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اور سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے یہ بات ذکر کرتے ہوئے سنا ہے : آپ نے ارشاد فرمایا : ” جمعہ کے دن میں ایک گھڑی ایسی ہے کہ جس میں جو بندہ نماز ادا کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے جو بھی چیز مانگتا ہے اللہ تعالٰی وہ چیز اسے عطا کر دیتا ہے راوی بیان کرتے ہیں : سیدنا عبداللہ بن سلام نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے یہ بات ذکر کی جی ہاں ! وہ ( جمعہ کے دن کی ) آخری گھڑی ہوتی ہے میں نے کہا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تو یہ ارشاد فرمایا ہے : وہ بندہ اس وقت نماز ادا کر رہا ہو اور اس آخری گھڑی میں تو نماز ادا نہیں کی جاتی ہے ، تو سیدنا عبداللہ بن سلام نے فرمایا : کیا تم نے یہ بات نہیں سنی ہے ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : ) کیا تم تک یہ بات نہیں پہنچی ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” جو شخص نماز کا انتظار کرتا ہے وہ نماز کی حالت میں شمار ہوتا ہے “ ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے منقول حدیث ” صحیح“ میں مذکور ہے سیدنا عبداللہ بن لام سے منقول حدیث بھی ” صحیح“ میں مذکور ہے ، تاہم وہ روایت ” موقوف“ ہے
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ۔