حدیث نمبر: 2977
عَنْ‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : جَمَعَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَيْنَ الْأُولَى وَالْعَصْرِ ، وَبَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ ، فَقِيلَ لَهُ فِي ذَلِكَ فَقَالَ : " صَنَعْتُ هَذَا لِكَيْ لَا تُحْرَجَ أُمَّتِي " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْقُدُّوسِ ضَعَّفَهُ ابْنُ مَعِينٍ وَالنَّسَائِيُّ ، وَوَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَقَالَ الْبُخَارِيُّ : صَدُوقٌ إِلَّا أَنَّهُ يَرْوِي عَنْ أَقْوَامٍ ضُعَفَاءَ، قُلْتُ : وَقَدْ رَوَى هَذَا عَنِ الْأَعْمَشِ وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلی ( یعنی ظہر کی ) اور عصر کی نمازیں اور مغرب اور عشاء کی نمازیں ایک ساتھ ادا کی تھیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں دریافت کیا گیا تو آپ نے ارشاد فرمایا : میں نے ایسا اس لئے کیا ہے تاکہ میری امت حرج کا شکار نہ ہو
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن عبدالقدوس ہے ، جسے یحیی بن معین اور امام نسائی رحمہ اللہ نے ضعیف قرار دیا ہے ، اور ابن حبان نے اسے ” ثقہ “ قرار دیا ہے امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں : یہ صدوق ہے ، تاہم یہ ضعیف لوگوں سے روایت نقل کرتا ہے ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس نے یہ روایت اعمش سے نقل کی ہے ، اور وہ ” ثقہ “ ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2977
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن