مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الصلاة— نماز کے بارے میں روایات
بَابُ السَّهْوِ فِي الصَّلَاةِ . باب: نماز میں سہو ہو جانا
وَعَنْ أَبِي الْمَلِيحِ بْنِ أُسَامَةَ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أَشْكُو إِلَيْكَ وَسْوَسَةً أَجِدُهَا فِي صَدْرِي ؛ إِنِّي أَدْخُلُ فِي صَلَاتِي فَمَا أَدْرِي عَلَى شَفْعٍ أَنْفَتِلُ أَمْ عَلَى وَتْرٍ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " فَإِذَا وَجَدْتَ ذَلِكَ فَارْفَعْ أُصْبُعَكَ السَّبَّابَةَ الْيُمْنَى فَاطْعَنْهُ فِي فَخِذِكَ الْيُسْرَى وَقُلْ : بِسْمِ اللَّهِ فَإِنَّهَا سِكِّينُ الشَّيْطَانِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَالْبَزَّارُ لَمْ يُحْسِنْ سِيَاقَةَ الْحَدِيثِ ، فَلَعَلَّهُ مِنْ سَقَمِ النُّسْخَةِ وَاللَّهُ أَعْلَمُ ، وَفِيهِ الْمُهَاجِرُ بْنُ الْمُنِيبِ عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ وَهُوَ مَجْهُولٌ . ¤ابوملیح بن اسامہ نے اپنے والد کے حوالے سے یہ بات نقل کی ہے ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں آپ کے سامنے وسوسے کی شکایت کرنا چاہتا ہوں ، جو میں اپنے سینے میں پاتا ہوں جب میں نماز شروع کرتا ہوں تو مجھے یہ پتہ نہیں چلتا کہ میں نے جفت رکعات کے بعد رکعات ختم کی ہے یا طاق رکعات کے بعد کی ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جب تم یہ صورت حال پاؤ تو اپنے دائیں ہاتھ کی شہادت کی انگلی کو بلند کرو اور اسے اپنے بائیں زانوں پر چبھو دو ! یہ چیز شیطان کو لگنے والی چھری ہے
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں اور امام بزار نے نقل کی ہے ، لیکن انہوں نے اس حدیث کا سیاق اچھی طرح سے نقل نہیں کیا ہے شاید یہ نسخے کی خامی ہو سکتی ہے باقی اللہ بہتر جانتا ہے ، اس کی سند میں یہ بات مذکور ہے ، اسے مہاجر بن منیب نے ابوالملیح سے روایت کیا ہے ، اور وہ مجہول ہے ۔