حدیث نمبر: 29
وَعَنْ رِفَاعَةَ الْجُهَنِيِّ قَالَ : أَقْبَلْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَتَّى إِذَا كُنَّا بِالْكَدِيدِ - أَوْ قَالَ بِقُدَيْدٍ - فَجَعَلَ رِجَالٌ يَسْتَأْذِنُونَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى أَهْلِيهِمْ ، فَيَأْذَنُ لَهُمْ ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ، ثُمَّ قَالَ : " مَا بَالُ رِجَالٍ يَكُونُ شِقُّ الشَّجَرَةِ الَّتِي تَلِي رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَبْغَضَ إِلَيْهِمْ مِنَ الشِّقِّ الْآخَرِ ؟ " . فَلَمْ يَرَ عِنْدَ ذَلِكَ مِنَ الْقَوْمِ إِلَّا بَاكِيًا ، فَقَالَ رَجُلٌ : إِنَّ الَّذِي يَسْتَأْذِنُ بَعْدَ هَذَا لَسَفِيهٌ ، فَحَمِدَ اللَّهَ وَقَالَ خَيْرًا ، وَقَالَ : " أَشْهَدُ عِنْدَ اللَّهِ ، لَا يَمُوتُ عَبْدٌ يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ صِدْقًا مِنْ قَلْبِهِ ، ثُمَّ يُسَدِّدُ - إِلَّا سُلِكَ فِي الْجَنَّةِ " . قَالَ : " وَقَدْ وَعَدَنِي رَبِّي - عَزَّ وَجَلَّ - أَنْ يَدْخُلَ الْجَنَّةَ مِنْ أُمَّتِي سَبْعِينَ أَلْفًا لَا حِسَابَ عَلَيْهِمْ وَلَا عَذَابَ ، وَإِنِّي لَأَرْجُو أَنْ لَا تَدْخُلُوهَا حَتَّى تَبَوَّءُوا أَنْتُمْ وَمَنْ صَلُحَ مِنْ آبَائِكُمْ وَأَزْوَاجِكُمْ وَذَرَارِيكُمْ مَسَاكِنَ فِي الْجَنَّةِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ - وَعِنْدَ ابْنِ مَاجَهْ بَعْضُهُ - وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا رفاعہ جہنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آ رہے تھے ، یہاں تک کہ جب ہم ” کدید “ یا ” قدید “ کے مقام پر پہنچے ، تو کچھ لوگوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ اجازت مانگی کہ وہ اپنے گھر جلدی چلے جائیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اجازت دے دی ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے ، آپ نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء بیان کی ، اور پھر ارشاد فرمایا : لوگوں کا کیا معاملہ ہے ؟ کہ اللہ کے رسول کی طرف والا درخت کا حصہ ، اُن کے لیے دوسری طرف سے زیادہ ناپسندیدہ ہے ، تو اس وقت ہر شخص رونے لگا ، ایک صاحب بولے : اس کے بعد جو شخص اجازت مانگے گا ، وہ بے وقوف ہو گا ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کی اور بھلائی کی بات کی اور پھر یہ ارشاد فرمایا : ” میں اللہ تعالیٰ کے حوالے سے گواہی دے کر یہ بات کہتا ہوں : کہ جو بھی بندہ ایسی حالت میں مرے کہ وہ اس بات کی گواہی دیتا ہو کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، اور بے شک میں اللہ کا رسول ہوں ، اور وہ سچے دل سے ( یہ گواہی دے ) اور پھر سیدھے راستے پر گامزن رہے ، تو وہ شخص جنت میں داخل ہو گا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی ارشاد فرمایا : میرے پروردگار نے مجھ سے یہ وعدہ کیا ہے کہ وہ میری امت کے ستر ہزار افراد کو یوں جنت میں داخل کرے گا کہ نہ تو اُن سے حساب لیا جائے گا ، اور نہ ہی انہیں کوئی عذاب ہو گا اور مجھے یہ امید ہے کہ تم لوگ اُس وقت تک جنت میں داخل نہیں ہو گے ، جب تک تم لوگ ، اور تمہارے آباؤ اجداد ، تمہاری بیویوں ، تمہاری اولاد میں سے نیک لوگ ، جنت میں اپنا ٹھکانا نہیں بنا لیتے “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، امام ابن ماجہ نے اس کا کچھ حصہ نقل کیا ہے ، اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الإيمان / حدیث: 29
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «أورده المؤلف فى زوائد المسند 13»