مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الإيمان— ایمان کے بارے میں روایات
بَابٌ فِيمَنْ شَهِدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ . باب: اس شخص کا بیان جو اس بات کی گواہی دے کہ اللہ تعالی کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے
وَعَنْ أَبِي عَمْرَةَ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ : كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي غَزَاةٍ ، فَأَصَابَ النَّاسَ مَخْمَصَةٌ ، فَاسْتَأْذَنَ النَّاسُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي نَحْرِ بَعْضِ ظَهْرِهِمْ ، وَقَالُوا : يُبَلِّغُنَا اللَّهُ بِهِ . فَلَمَّا رَأَى عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَدْ هَمَّ أَنْ يَأْذَنَ لَهُمْ فِي نَحْرِ بَعْضِ ظَهْرِهِمْ ، قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، كَيْفَ بِنَا إِذَا نَحْنُ لَقِينَا الْقَوْمَ غَدًا جِيَاعًا رِجَالًا ؟ وَلَكِنْ إِنْ رَأَيْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنْ تَدْعُوَ النَّاسَ بِبَقَايَا أَزْوَادِهِمْ فَتَجْمَعَهُ ، ثُمَّ تَدْعُوَ اللَّهَ فِيهِ بِالْبَرَكَةِ ; فَإِنَّ اللَّهَ سَيُبَارِكُ لَنَا فِي دَعْوَتِكَ - أَوْ سَيُبَلِّغُنَا بِدَعْوَتِكَ - فَدَعَا النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِبَقَايَا أَزْوَادِهِمْ ، فَجَعَلَ النَّاسُ يَجِيئُونَ بِالْحَثْيَةِ مِنَ الطَّعَامِ وَفَوْقَ ذَلِكَ ، وَكَانَ أَعْلَاهُمْ مَنْ جَاءَ بِصَاعٍ مِنْ تَمْرٍ . فَجَمَعَهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ثُمَّ قَامَ فَدَعَا مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَدْعُوَ ، ثُمَّ دَعَا الْجَيْشَ بِأَوْعِيَتِهِمْ ، وَأَمَرَهُمْ أَنْ يَحْتَثُوا ، فَمَا بَقِيَ فِي الْجَيْشِ وِعَاءٌ إِلَّا مَلَئُوهُ ، وَبَقِيَ مَثَلُهُ . فَضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَتَّى بَدَتْ نَوَاجِذُهُ ، فَقَالَ : " أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، وَأَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ ، لَا يَلْقَى اللَّهَ عَبَدٌ مُؤْمِنٌ بِهَا إِلَّا حَجَبَتْهُ عَنِ النَّارِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ . وَزَادَ فِيهِ : ثُمَّ دَعَا بِرَكْوَةٍ فَوُضِعَتْ بَيْنَ يَدَيْهِ ، ثُمَّ دَعَا بِمَاءٍ فَصُبَّ فِيهَا ، ثُمَّ مَجَّ فِيهِ وَتَكَلَّمَ بِمَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَتَكَلَّمَ ، ثُمَّ أَدْخَلَ خِنْصَرَهُ - فَأُقْسِمُ بِاللَّهِ : لَقَدْ رَأَيْتُ أَصَابِعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - تَتَفَجَّرُ يَنَابِيعَ مِنَ الْمَاءِ - ثُمَّ أَمَرَ النَّاسَ فَشَرِبُوا وَسَقَوْا وَمَلَئُوا قِرَبَهُمْ وَأَدَاوِيهِمْ . وَقَالَ : " لَا يَلْقَى اللَّهَ بِهِمَا أَحَدٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِلَّا أُدْخِلَ الْجَنَّةَ عَلَى مَا كَانَ فِيهِ " . وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤سیدنا ابوعمرو انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک جنگ میں حصہ لینے کے لیے گئے لوگوں کو بھوک لاحق ہوئی تو لوگوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ اجازت مانگی کہ وہ اپنی سواری کے جانوروں میں سے کچھ کو ذبح کر لیں انہوں نے عرض کی : اللہ تعالٰی اس کے ذریعے ہمیں ( منزل مقصود تک ) پہنچا دے گا جب سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے یہ دیکھا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ارادہ کیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو اس بات کی اجازت دے دیں کہ وہ اپنے سواری کے کچھ جانور ذبح کر لیں ، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اس وقت ہمارا کیا حال ہو گا ؟ جب کل ہم دشمن کا سامنا کریں گے تو ہم بھوکے ہوں گے اور پیادہ ہوں گے یا رسول اللہ ! البتہ اگر آپ مناسب سمجھیں ، تو لوگوں کو یہ حکم دیں کہ وہ باقی بچ جانے والا زاد سفر لے آئیں ، پھر آپ اللہ تعالیٰ سے اُس میں برکت کی دعا کر دیں ، تو اللہ تعالٰی ہمارے لئے آپ کی دعا میں برکت رکھ دے گا ( راوی کو شک ہے یا شاہد یہ الفاظ ہیں : ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا کی وجہ سے ہمارا مطلوب عطا کر دے گا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کو یہ حکم دیا کہ وہ باقی بچ جانے والا زاد سفر لے کر آئیں تو لوگ مٹھی بھر اناج یا اُس سے کچھ زیادہ لے کر آنے لگے جو شخص سب سے زیادہ اناج لے کر آیا تھا وہ کھجوروں کا ایک صاع لایا تھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سب چیزوں کو جمع کیا اور جو اللہ کو منظور تھا وہ دعا کی پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لشکر والوں کو اپنے برتن لانے کا حکم دیا اور انہیں یہ ہدایت کی کہ وہ اپنی مٹھیاں بھر لیں ، تو شکر میں موجود ہر برتن ان لوگوں نے بھر لیا اور پھر بھی اُتنا ہی اناج باقی بچ گیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مسکرا دیئے یہاں تک کہ آپ کے اطراف کے دانت نظر آنے لگے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے اور میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ میں اللہ کا رسول ہوں ، جو بندہ اس بات ( یعنی کلمہ شہادت ) پر ایمان رکھتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاظر ہو گا
تو یہ کلمہ قیامت کے دن اسے جہنم سے محفوظ رکھے گا ۔
یہ روایت امام أحمد نے ( اپنی مسند میں ) اور امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے تاہم انہوں نے اس میں یہ الفاظ زائد نقل کئے ہیں : پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک پیالہ منگوایا وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے رکھا گیا ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی منگوایا وہ اس میں ڈال دیا گیا ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُس میں کلی کی اور جو اللہ کو منظور تھا وہ پڑھا ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی چھوٹی انگلی اس میں داخل کی تو میں اللہ کی قسم اٹھا کر یہ بات کہتا ہوں کہ میں نے دیکھا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی انگلیوں سے پانی کے چشمے پھوٹ پڑئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو حکم دیا تو انہوں نے خود پانی پیا ( اپنے جانوروں کو ) پلایا اپنے مشکیزے اور برتن بھر لئے ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جو بھی شخص قیامت کے دن ان دو کلمات کے ہمراہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہو گا ، تو اُسے جنت میں داخل کیا جائے گا خواہ اُس ( شخص ) میں جو بھی خامیاں پائی جاتی ہوں
اس روایت کے رجال ثقہ ہیں ۔