مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الصلاة— نماز کے بارے میں روایات
بَابُ الِانْصِرَافِ مِنَ الصَّلَاةِ . باب: نماز ختم کرنا
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَكَانَ سَاعَةَ يُسَلِّمُ يَقُومُ ثُمَّ صَلَّيْتُ مَعَ أَبِي بَكْرٍ فَكَانَ إِذَا سَلَّمَ وَثَبَ كَأَنَّهُ يَقُومُ عَنْ رَضْفَةٍ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ فَرُّوخَ قَالَ إِبْرَاهِيمُ الْجُوزَجَانِيُّ : أَحَادِيثُهُ مَنَاكِيرُ ، وَقَالَ ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ : هُوَ أَرْضَى أَهْلِ الْأَرْضِ عِنْدِي وَوَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَقَالَ : رُبَّمَا خَالَفَ وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں نماز ادا کی آپ نے جیسے ہی سلام پھیرا تو آپ اٹھ گئے پھر میں نے سیدنا ابوبکر کی اقتداء میں نماز ادا کی انہوں نے جب سلام پھیرا تو وہ فورا اٹھ گئے یوں جیسے وہ کسی انگارے پر بیٹھے ہوئے ہوں
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن فروخ ہے ابراہیم جو زجانی بیان کرتے ہیں : اس کی نقل کردہ احادیث منکر ہوتی ہیں ابن ابومریم کہتے ہیں : وہ میرے نزدیک روئے زمین کا سب سے زیادہ پسندیدہ آدمی ہے ۔ ابن حبان نے اسے ” ثقہ “ قرار دیا ہے وہ بیان کرتے ہیں : یہ ( بعض اوقات دوسرے راویوں کے ) برخلاف روایت نقل کر دیتا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ” ثقہ “ ہیں ۔