مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الصلاة— نماز کے بارے میں روایات
بَابُ التَّشَهُّدِ وَالْجُلُوسِ وَالْإِشَارَةِ بِالْإِصْبَعِ فِيهِ . باب: تشہد ، جلوس ( یعنی بیٹھنا ) اور اس دوران انگلی کے ذریعے اشارہ کرنا
قَالَ بَعْدَ قَوْلِهِ : وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ قَالَ : فَإِذَا قَضَيْتَ هَذَا أَوْ قَالَ : فَإِذَا فَعَلْتَ هَذَا فَقَدَ قَضَيْتَ صَلَاتَكَ فَإِنْ شِئْتَ أَنْ تَقُومَ فَقُمْ وَإِنْ شِئْتَ أَنْ تَقْعُدَ فَاقْعُدْ . ¤ وَرَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَبَيَّنَ أَنَّ ذَلِكَ مِنْ قَوْلِ ابْنِ مَسْعُودٍ مِنْ قَوْلِهِ : فَإِذَا فَرَغْتَ مِنْ هَذَا فَقَدَ قَضَيْتَ صَلَاتَكَ ، كَذَلِكَ لَفْظُهُ عِنْدَ الطَّبَرَانِيِّ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ مُوَثَّقُونَ . ¤انہوں نے اسے ایک اور سند کے ساتھ نقل کیا ہے ، جس میں ان الفاظ کے بعد ” میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں“ ۔ اس کے بعد انہوں نے یہ کہا: کہ جب تم یہ مکمل کر لو گے ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : ) انہوں نے کہا: جب تم ایسا کر لو گے ، تو تم اپنی نماز کو مکمل کر لو گے پھر اگر تم اٹھنا چاہو تو اٹھ جاؤ اور اگر بیٹھے رہنا چاہو تو بیٹھے رہو ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے انہوں نے یہ بات بیان کی ہے کہ یہ کلمات سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا قول ہیں ۔ ” جب تم اس سے فارغ ہو جاؤ گے ، تو تم اپنی نماز مکمل کر لو گے “ ۔ امام طبرانی نے روایت کے یہ الفاظ اسی طرح نقل کیے ہیں ، امام أحمد کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔