مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الصلاة— نماز کے بارے میں روایات
بَابُ التَّشَهُّدِ وَالْجُلُوسِ وَالْإِشَارَةِ بِالْإِصْبَعِ فِيهِ . باب: تشہد ، جلوس ( یعنی بیٹھنا ) اور اس دوران انگلی کے ذریعے اشارہ کرنا
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : عَلَّمَنِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - التَّشَهُّدَ فِي وَسَطِ الصَّلَاةِ وَفِي آخِرِهَا قَالَ : فَكَانَ يَقُولُ إِذَا جَلَسَ فِي وَسَطِ الصَّلَاةِ وَفِي آخِرِهَا عَلَى وِرْكِهِ الْيُسْرَى : " التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ " قَالَ : ثُمَّ إِنْ كَانَ فِي وَسَطِ الصَّلَاةِ نَهَضَ حِينَ يَفْرُغُ مِنْ تَشَهُّدِهِ وَإِنْ كَانَ فِي آخِرِهَا دَعَا بَعْدَ تَشَهُّدِهِ بِمَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَدْعُوَ ثُمَّ يُسَلِّمُ . ¤ قُلْتُ : هُوَ فِي الصَّحِيحِ بِاخْتِصَارٍ عَنْ هَذَا . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ . ¤سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے نماز کے درمیان میں اور اس کے آخر میں تشہد پڑھنے کی تعلیم دی وہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے درمیان میں اور نماز کے آخر میں بائیں زانوں کے بل بیٹھتے تھے تو یہ پڑھتے تھے : ” ہر طرح کی جسمانی زبانی اور مالی عبادات اللہ تعالیٰ کے لئے مخصوص ہیں اے نبی آپ پر سلام ہو اللہ تعالیٰ کی رحمتیں اور اس کی برکتیں نازل ہوں ہم پر اور اللہ تعالیٰ کے تمام نیک بندوں پر سلام ہو میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالی کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، اور میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں “ ۔ وہ بیان کرتے ہیں : پھر اگر آپ نماز کے درمیان میں ہوتے تھے تو تشہد پڑھنے کے بعد اٹھ جاتے تھے ، اور اگر نماز کے آخر میں ہوتے تھے تو تشہد کے بعد جو اللہ کو منظور ہوتا تھا وہ دعا کرتے تھے ، اور پھر سلام پھیرا کرتے تھے ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت ” صحیح “ میں اس کی بہ نسبت اختصار کے ساتھ منقول ہے ، اسے امام أحمد نے نقل کیا ہے ، اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔