مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الصلاة— نماز کے بارے میں روایات
بَابُ التَّشَهُّدِ وَالْجُلُوسِ وَالْإِشَارَةِ بِالْإِصْبَعِ فِيهِ . باب: تشہد ، جلوس ( یعنی بیٹھنا ) اور اس دوران انگلی کے ذریعے اشارہ کرنا
وَعَنْ أَبِي الْوَرْدِ أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الزُّبَيْرِ يَقُولُ : إِنَّ تَشَهُّدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يَتَشَهَّدُ : " بِسْمِ اللَّهِ وَبِاللَّهِ خَيْرِ الْأَسْمَاءِ التَّحِيَّاتُ الطَّيِّبَاتُ الصَّلَوَاتُ لِلَّهِ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ أَرْسَلَهُ بِالْحَقِّ بَشِيرًا وَنَذِيرًا ، وَأَنَّ السَّاعَةَ آتِيَةٌ لَا رَيْبَ فِيهَا ، السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ الْكَرِيمُ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ ، اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي وَاهْدِنِي" . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ وَزَادَ فِيهِ : " وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ " وَقَالَ فِي آخِرِهِ : "هَذَا فِي الرَّكْعَتَيْنِ الْأُولَيَيْنِ" وَمَدَارُهُ عَلَى ابْنِ لَهِيعَةَ وَفِيهِ كَلَامٌ . ¤ابودرد بیان کرتے ہیں : انہوں نے سیدنا عبداللہ بن زبیر کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے تشہد کے کلمات جو آپ پڑھا کرتے تھے وہ یہ ہیں : ” اللہ تعالیٰ کے نام سے برکت حاصل کرتے ہوئے اور اللہ سے مدد حاصل کرتے ہوئے جو سب سے بہترین اسم ہے ہر طرح کی زبانی جسمانی اور مالی عبادت اللہ تعالیٰ کے مخصوص ہے میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے وہ ایک معبود ہے ، اس کا کوئی شریک نہیں ہے ، اور سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں جنہیں اس نے حق کے ہمراہ خوشخبری سنانے والا اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے قیامت آنے والی ہے ، اس میں کوئی شک نہیں ہے اے معزز نبی آپ پر سلام ہو اللہ تعالیٰ کی رحمتیں اور اس کی برکتیں نازل ہوں ہم پر اور اللہ تعالی کے تمام نیک بندوں پر سلام ہو اے اللہ ! تو میری مغفرت کر دے اور تو مجھے ہدایت نصیب فرما “ ۔
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور انہوں نے یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں : ” ایک ہے ، اس کا کوئی شریک نہیں ہے “ ۔ انہوں نے اس کے آخر میں یہ الفاظ بھی نقل کیے ہیں : ” یہ پہلی دو رکعات کے بعد ہو گا “ ۔ اس روایت کا مدار ابن لہیعہ نامی راوی پر ہے ، جس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔