حدیث نمبر: 2857
وَعَنِ الْبَهْزِيِّ قَالَ : سَأَلْتُ الْحُسَيْنَ بْنَ عَلِيٍّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - عَنْ تَشَهُّدِ عَلِيٍّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - ؟ قَالَ : هُوَ تَشَهُّدُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قُلْتُ : فَتَشَهَّدُ عَبْدِ اللَّهِ ؟ قَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يُحِبُّ أَنْ يُخَفِّفَ عَلَى أُمَّتِهِ، قُلْتُ : كَيْفَ تَشَهَّدَ عَلِيٌّ بِتَشَهُّدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ؟ قَالَ : " التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ الْغَادِيَاتُ الرَّائِحَاتُ الزَّاكِيَاتُ الْمُبَارَكَاتُ الطَّاهِرَاتُ لِلَّهِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَقَالَ : " وَالنَّاعِمَاتُ السَّابِغَاتُ " وَرِجَالُ الْكَبِيرِ مُوَثَّقُونَ . ¤
محمد محی الدین

بہزی بیان کرتے ہیں : میں نے سیدنا امام حسین بن علی رضی اللہ عنہ سے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے تشہد ( کے کلمات ) کے بارے میں دریافت کیا : تو انہوں نے جواب دیا : وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا تشہد ہے میں نے دریافت کیا : تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کے تشہد کا کیا ہو گا ، تو سیدنا حسین رضی اللہ عنہ نے جواب دیا : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس بات کو پسند کرتے تھے کہ اپنی امت پر تخفیف کریں میں نے دریافت کیا : سیدنا علی رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے تشہد کے مطابق تشہد کے کلمات کیسے پڑھتے تھے انہوں نے جواب دیا : ( ان کے تشہد کے کلمات یہ تھے : ) ہر طرح کی جسمانی عبادات اللہ تعالیٰ کے لئے مخصوص ہیں ، اور مالی اور پاکیزہ ( عبادت ) جو صبح والی ہو شام والی ہو صاف ستھری ہو برکت والی ہو پاک ہو وہ اللہ تعالیٰ کے لئے مخصوص ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور یہ الفاظ بھی نقل کیے ہیں : ” نعمت والی ہو پھیلنے والی ہو “ امام طبرانی کی معجم کبیر کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2857
درجۂ حدیث محدثین: إسناده رواہ